شوہر کے شرعی فرائض

599 بار دیکھا گیا


گذشتہ قسط: بیویوں کے شرعی فرائض

1) شوہر معروف طریقے کے ساتھ عورت سے نباہ کرے، جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے:

“اور ان (عورتوں) کے ساتھ دستور کے مطابق نباہ کرو” (سورۃ النساء، آیت 19)

یعنی جب کھانا کھائے تو اسے کھلائے، کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کی نافرمانی کا خطرہ محسوس کرے تو اللہ کے حکم کے مطابق (گالی گلوچ اور برا بھلا کہے بغیر سمجھائے)، اگر کہا مان لے تو صحیح، ورنہ بستر کی جدائی اختیار کرے، اگر اس سزا سے درست ہوجائے تو بہتر، ورنہ چہرہ کے علاوہ معمولی ضرب اور تنبیہ اختیار کرے، نیز اس کا خون نا بہائے اور نا مار کٹائی کر کے اسے زخمی کرے اور نا اس کا کئی عضو توڑے۔

جیسا کہ حکم ربانی ہے:
“اور جن عورتوں کی نافرمانی محسوس کرو تو ان کو سمجھاو اور (اگر نا سمجھیں تو) شب باشی میں الگ کر دو اور (اگر اس پر بھی باز نا آئیں تو) ان کو مارو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان پر (مار کا) کوئی رستہ نا تلاش کرو۔” (سورۃ النساء، آیت 34)

رسول اللہﷺ سے ایک شخص نے پوچھا، “ہمارے ایک کی بیوی کے اپنے خاوند پر کیا حقوق ہیں؟، تو آپﷺ نے فرمایا، “کہ جب تو کھانا کھائے اسے کھلا، جب لباس پہنے تو اسے پہنا، اس کے منہ پر نا مار اور برا نہ کہہ اور گفتگو ترک کرے تو صرف گھر کی حد تک۔” (سنن ابی داود و اسناد حسن)

مزید فرمایا: خبر دار! تم پر عورتوں کا حق ہے کہ تم انہیں اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔” (سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ)

نیز فرمایا: “کوئی مومن، ایمان والی عورت سے نفرت نہ کرے، (اس لیے کہ) اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسرے پسند آ جائے گی۔”

2) بیوی کو ضروری دینی احکام سکھائے، اگر وہ نہیں جانتی، تو اسے اجازت دے کہ وہ مجالس علم و وعظ میں شریک ہو کر علم حاصل کرے، اس لیے کہ عورت کو کھانے پینے کی نسبت، اپنے دین اور روح کی اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے۔

باری تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور گھر والوں کو آگ سے بچاو” (سورۃ التحریم، آیت 6)

بیوی بھی گھر والوں میں شامل ہے، لہٰذا ایمان اورعمل صالح کے ساتھ اسے جہنم سے بچانا ضروری ہے، اور عمل صالح کے لیے علم و معرفت کی ضرورت ہے۔ تاکہ علم کی بنیاد پر وہ اپنے عمل اور ایمان کو درست کر سکے۔۔۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: “سنو! عورتوں کے بارے میں اچھی وصیت قبول کرو، وہ تمہارے پاس پابند ہو چکی ہیں” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

3) اسلامی تعلیمات و آداب پر عمل پیرا ہونے کا اسے پابند بنائے، بے پردہ گھر سے نکلنے اور غیرمردوں کے اختلاط سے اسے منع کرے اور اس پر یہ لازم ہے کہ بیوی کی حفاظت اور پوری نگہداشت کرے، اخلاقی اور عملی خرابیوں سے اسے بچائے، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام سے بغاوت اور گناہ و فجور کی زندگی گزارنے کے لیے اس کے لیے کھلا میدان نا چھوڑ دے، اس لیے کہ وہ زمہ دارو نگہبان ہے، اس کی حفاظت اور صیانت اس کی زمہ داری ہے۔

ارشاد حق تعالیٰ ہے: “مرد عورتوں پر ذمہ دار ہیں”۔ ( سورۃ النساء، آیت 34)

حدیث رسول اللہﷺ ہے: “مرد اپنے اہل پر حاکم اور زمہ دار ہیں، اور ان کی زمہ داری کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

4) اگر دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے درمیان انصاف روا رکھے، خورد و نوش، لباس، رہائش اور رات گزارنے میں ان کے مابین عدل اور برابری کرے۔ ان امور میں ظلم زیادتی روا نہ رکھے۔ کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: “اگر تمہیں خطرہ ہو کہ عدل و انصاف نا کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری ملکیت میں ہیں” (سورۃ النساء آیت 3)

رسول اللہﷺ نے بھلائی کی وصیت فرمائے ہوئے ارشاد فرمایا: “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے اہل عیال کے لیے زیادہ بہتر ہو، اور میں تمہاری نسبت اپنے اہل کے لیے زیادہ بہتر ہوں”۔ (صحیح مسلم و صحیح بخاری)

5) اپنی بیوی کا کوئی راز افشا نا کرے اور نا اس کے کسی عیب کا تذکرہ کرے، اس لیے کہ وہ اس کا امین ہے اور اس کی حفاظت، نگہداشت اور دفاع کا اسے حکم دیا گیا ہے۔

ارشاد نبویﷺ ہے: “اللہ کے نزدیک، اس انسان کا مقام قیامت کے دن بدترین ہوگا، جو اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بعد اس کا راز افشا کرتا ہو”۔(صحیح مسلم)

6) عورت کا کئی رشتہ دار بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لیے اور فوت ہونے کی صورت میں جنازہ پر جانے کے لیے اس کی اجازت دینا بہتر ہے۔۔۔ اس کے علاوہ رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے بھی عورت جا سکتی ہے، مگر اس طور پر کہ خاوند کے مصالح کو نقصان نا پہنچے۔

7) اپنی بیوی کا جنسی حق ادا کرے اور اگر عورت کی کفایت کو پورا نہیں کر سکتا تو بھی چار ماہ میں کم از کم ایک بار ضرور مجامعت کرے۔
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے: “جن مردوں نے اپنی عورتوں سے “ایلاء” کیا ہے (ان سے جماع نا کرنے کی قسم اٹھائی ہے) تو، وہ (عورتیں) چار ماہ انتظار کریں، اگر رجوع کرتے ہیں، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔” (سورۃ البقرۃ، آیت 226)

بیوی کی خاوند سے سرکشی اور ناچاقی:

اگر عورت خاوند کی نافرمان ہو جائے، اور اس کے حقوق ادا نہ کرے تو اسے زبانی سمجھائے، اگر اطاعت میں آ جائے تو بہتر، ورنہ مخصوص مدت تک خاوند الگ بستر بنا لے، تاہم ترک کلام تین دن سے زیادہ نا کرے۔

اگر اس طرح وہ اطاعت قبول کر لے تو بہتر،ورنہ معمولی انداز سے مارے اور چہرے پر مارنے سے احتراز کرے۔ اس کے بعد اطاعت قبول کر لے تو ٹھیک، ورنہ دو فیصلہ کرنے والے (ایک مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے) مقرر کریں، جو الگ الگ ان سے مل کر اصلاح حال اور ان میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں، اگر ان کی کوشش اس کے باوجود بار آور نہیں ہوتی تو ان کے مابین “طلاق بائن” کے ذریعہ تفریق کرا دیں۔

اللہ تعالیٰ سورۃ النسا کی  آیت نمبر 34 اور 35 میں فرماتا ہے:

“اور تم جن عورتوں کی سرکشی اور نا فرمانی معلوم کرو، ان کو سمجھاو، اور شب باشی میں ان کو علیحدہ کر دو اور ان کو مارو، بھر اگر تمہاری فرمانبرداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نا کرو، یقینا اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔ اور اگر دونوں میں سخت مخالفت پاو تو ایک منصف مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ ان کو صلح کی توفیق دے گا، یقینا اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔”

منھاج المسلم

اگلی قسط: شوہر اور بیوی کے مشترکہ حقوق

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

16 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: