عمرانیات » شوہر کے شرعی فرائض

شوہر کے شرعی فرائض

ہفتہ, 23 اپریل 2011, 15:56 | زمرہ: عشق الہی
ٹیگز:


گذشتہ قسط: بیویوں کے شرعی فرائض

1) شوہر معروف طریقے کے ساتھ عورت سے نباہ کرے، جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے:

“اور ان (عورتوں) کے ساتھ دستور کے مطابق نباہ کرو” (سورۃ النساء، آیت 19)

یعنی جب کھانا کھائے تو اسے کھلائے، کپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کی نافرمانی کا خطرہ محسوس کرے تو اللہ کے حکم کے مطابق (گالی گلوچ اور برا بھلا کہے بغیر سمجھائے)، اگر کہا مان لے تو صحیح، ورنہ بستر کی جدائی اختیار کرے، اگر اس سزا سے درست ہوجائے تو بہتر، ورنہ چہرہ کے علاوہ معمولی ضرب اور تنبیہ اختیار کرے، نیز اس کا خون نا بہائے اور نا مار کٹائی کر کے اسے زخمی کرے اور نا اس کا کئی عضو توڑے۔

جیسا کہ حکم ربانی ہے:
“اور جن عورتوں کی نافرمانی محسوس کرو تو ان کو سمجھاو اور (اگر نا سمجھیں تو) شب باشی میں الگ کر دو اور (اگر اس پر بھی باز نا آئیں تو) ان کو مارو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پھر ان پر (مار کا) کوئی رستہ نا تلاش کرو۔” (سورۃ النساء، آیت 34)

رسول اللہﷺ سے ایک شخص نے پوچھا، “ہمارے ایک کی بیوی کے اپنے خاوند پر کیا حقوق ہیں؟، تو آپﷺ نے فرمایا، “کہ جب تو کھانا کھائے اسے کھلا، جب لباس پہنے تو اسے پہنا، اس کے منہ پر نا مار اور برا نہ کہہ اور گفتگو ترک کرے تو صرف گھر کی حد تک۔” (سنن ابی داود و اسناد حسن)

مزید فرمایا: خبر دار! تم پر عورتوں کا حق ہے کہ تم انہیں اچھا لباس اور اچھا کھانا مہیا کرو۔” (سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ)

نیز فرمایا: “کوئی مومن، ایمان والی عورت سے نفرت نہ کرے، (اس لیے کہ) اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہے تو دوسرے پسند آ جائے گی۔”

2) بیوی کو ضروری دینی احکام سکھائے، اگر وہ نہیں جانتی، تو اسے اجازت دے کہ وہ مجالس علم و وعظ میں شریک ہو کر علم حاصل کرے، اس لیے کہ عورت کو کھانے پینے کی نسبت، اپنے دین اور روح کی اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے۔

باری تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور گھر والوں کو آگ سے بچاو” (سورۃ التحریم، آیت 6)

بیوی بھی گھر والوں میں شامل ہے، لہٰذا ایمان اورعمل صالح کے ساتھ اسے جہنم سے بچانا ضروری ہے، اور عمل صالح کے لیے علم و معرفت کی ضرورت ہے۔ تاکہ علم کی بنیاد پر وہ اپنے عمل اور ایمان کو درست کر سکے۔۔۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: “سنو! عورتوں کے بارے میں اچھی وصیت قبول کرو، وہ تمہارے پاس پابند ہو چکی ہیں” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

3) اسلامی تعلیمات و آداب پر عمل پیرا ہونے کا اسے پابند بنائے، بے پردہ گھر سے نکلنے اور غیرمردوں کے اختلاط سے اسے منع کرے اور اس پر یہ لازم ہے کہ بیوی کی حفاظت اور پوری نگہداشت کرے، اخلاقی اور عملی خرابیوں سے اسے بچائے، اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام سے بغاوت اور گناہ و فجور کی زندگی گزارنے کے لیے اس کے لیے کھلا میدان نا چھوڑ دے، اس لیے کہ وہ زمہ دارو نگہبان ہے، اس کی حفاظت اور صیانت اس کی زمہ داری ہے۔

ارشاد حق تعالیٰ ہے: “مرد عورتوں پر ذمہ دار ہیں”۔ ( سورۃ النساء، آیت 34)

حدیث رسول اللہﷺ ہے: “مرد اپنے اہل پر حاکم اور زمہ دار ہیں، اور ان کی زمہ داری کے متعلق ان سے پوچھا جائے گا”۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

4) اگر دو یا دو سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان کے درمیان انصاف روا رکھے، خورد و نوش، لباس، رہائش اور رات گزارنے میں ان کے مابین عدل اور برابری کرے۔ ان امور میں ظلم زیادتی روا نہ رکھے۔ کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: “اگر تمہیں خطرہ ہو کہ عدل و انصاف نا کر سکو گے تو ایک ہی (سے نکاح کرو) یا جو تمہاری ملکیت میں ہیں” (سورۃ النساء آیت 3)

رسول اللہﷺ نے بھلائی کی وصیت فرمائے ہوئے ارشاد فرمایا: “تم میں بہتر وہ ہے جو اپنے اہل عیال کے لیے زیادہ بہتر ہو، اور میں تمہاری نسبت اپنے اہل کے لیے زیادہ بہتر ہوں”۔ (صحیح مسلم و صحیح بخاری)

5) اپنی بیوی کا کوئی راز افشا نا کرے اور نا اس کے کسی عیب کا تذکرہ کرے، اس لیے کہ وہ اس کا امین ہے اور اس کی حفاظت، نگہداشت اور دفاع کا اسے حکم دیا گیا ہے۔

ارشاد نبویﷺ ہے: “اللہ کے نزدیک، اس انسان کا مقام قیامت کے دن بدترین ہوگا، جو اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے بعد اس کا راز افشا کرتا ہو”۔(صحیح مسلم)

6) عورت کا کئی رشتہ دار بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لیے اور فوت ہونے کی صورت میں جنازہ پر جانے کے لیے اس کی اجازت دینا بہتر ہے۔۔۔ اس کے علاوہ رشتہ داروں کی ملاقات کے لیے بھی عورت جا سکتی ہے، مگر اس طور پر کہ خاوند کے مصالح کو نقصان نا پہنچے۔

7) اپنی بیوی کا جنسی حق ادا کرے اور اگر عورت کی کفایت کو پورا نہیں کر سکتا تو بھی چار ماہ میں کم از کم ایک بار ضرور مجامعت کرے۔
جیسا کہ اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے: “جن مردوں نے اپنی عورتوں سے “ایلاء” کیا ہے (ان سے جماع نا کرنے کی قسم اٹھائی ہے) تو، وہ (عورتیں) چار ماہ انتظار کریں، اگر رجوع کرتے ہیں، تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔” (سورۃ البقرۃ، آیت 226)

بیوی کی خاوند سے سرکشی اور ناچاقی:

اگر عورت خاوند کی نافرمان ہو جائے، اور اس کے حقوق ادا نہ کرے تو اسے زبانی سمجھائے، اگر اطاعت میں آ جائے تو بہتر، ورنہ مخصوص مدت تک خاوند الگ بستر بنا لے، تاہم ترک کلام تین دن سے زیادہ نا کرے۔

اگر اس طرح وہ اطاعت قبول کر لے تو بہتر،ورنہ معمولی انداز سے مارے اور چہرے پر مارنے سے احتراز کرے۔ اس کے بعد اطاعت قبول کر لے تو ٹھیک، ورنہ دو فیصلہ کرنے والے (ایک مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے) مقرر کریں، جو الگ الگ ان سے مل کر اصلاح حال اور ان میں موافقت پیدا کرنے کی کوشش کریں، اگر ان کی کوشش اس کے باوجود بار آور نہیں ہوتی تو ان کے مابین “طلاق بائن” کے ذریعہ تفریق کرا دیں۔

اللہ تعالیٰ سورۃ النسا کی  آیت نمبر 34 اور 35 میں فرماتا ہے:

“اور تم جن عورتوں کی سرکشی اور نا فرمانی معلوم کرو، ان کو سمجھاو، اور شب باشی میں ان کو علیحدہ کر دو اور ان کو مارو، بھر اگر تمہاری فرمانبرداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نا کرو، یقینا اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔ اور اگر دونوں میں سخت مخالفت پاو تو ایک منصف مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ ان کو صلح کی توفیق دے گا، یقینا اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔”

منھاج المسلم

اگلی قسط: شوہر اور بیوی کے مشترکہ حقوق



16 تبصرے برائے “شوہر کے شرعی فرائض”

  1. 1یاسر خوامخواہ جاپانی


    جزاکاللہ

  2. 2Dr Jawwad Khan


    آپکے نام کے ساتھ مولانا لگانے کا جی چاہ رہا ہے :)…جزاک الله

  3. 3Dr Jawwad Khan


    “اور تم جن عورتوں کی سرکشی اور نا فرمانی معلوم کرو، ان کو سمجھاو، اور شب باشی میں ان کو علیحدہ کر دو اور ان کو مارو، بھر اگر تمہاری فرمانبرداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نا کرو، یقینا اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔ اور اگر دونوں میں سخت مخالفت پاو تو ایک منصف مرد کے کنبہ سے اور ایک عورت کے کنبہ سے مقرر کرو، اگر وہ دونوں صلح کی کوشش کریں گے تو اللہ ان کو صلح کی توفیق دے گا، یقینا اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔”

    . قرآن ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے ایک سمندر ہے جس سے نکالنے والے عظیم الشان خزانے نکال لیتے ہیں ..اپنے اپنے نصیب کی بات ہے.
    لیکن اسکا ایک فائدہ آپکی پوسٹ پڑھ کر سمجھ میں آیا کہ قرآن حاسدوں اور دشمنوں کا خون جلانے کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے…
    بہت خوب جناب بہت خوب ..
    مان گئے آپکی بصیرت افروز انگل بیت کو

  4. 4افتخار اجمل بھوپال


    جزاک اللہ خيراٌ

  5. 5Darvesh Khurasani


    جزاک اللہ

  6. 6عادل بھیا


    اللہ تمام مُسلمانوں کو اسلام کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپکی اس نیک کاوش کو قبول فرمائے

  7. 7وقاراعظم


    بہت خوب مولوی صاب، میں نے تو ماشااللہ، جزاک اللہ ہی کہنا ہے، بھلے عبداللہ بن ابی بریگیڈ کے دلوں میں انگارے روشن ہوں۔۔۔۔۔

  8. 8جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین


    جزاک اللہ، اللہ تعالٰی آپ کی محنت کو قبول فرمائیں اور جزائے خیر دیں۔ تمام مسلمان مرد عورتوں کو دین سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی درست توفیق عطا فرمائے۔

    اسلام محبت اور جوڑنے کا دین ہے۔ اور ایک ضابظہ حیات بھی اور دنیا کے کسی بھی قانون کی طرح قانون الہیی میں سب کے فرائض اور حقوق واضح ہیں۔ مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب طے شدہ اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کوئی ایک فریق یا دنوں من مانی اور زبردستی کرنے پہ اترا آتا ہے۔

  9. 9خرم ابن شبیر


    جزاک اللہ بہت خوب

  10. 10انکل ٹام


    سر جی ایک بات رہ گئی ہے ، وہ یہ کے اگر بیوی مارا کرے تو شوہر کیا کرے ؟؟؟ کچھ آدمیوں کی بیویاں تو انکی جوتوں سے پٹای بھی کرتی ہیں پھر وہ یہاں آکر حقوق نسوا پر لنک پیسٹ کرتے ہیں ، اگر انکے حل کے لیے بھی کچھ لکھ دیتے ۔

  11. 11Saad


    نہیں یہ جھوٹا پراپیگنڈہ ہے 😀

  12. 12pakaroosa

    haha .. very nice question 🙂

  13. 13احمد عرفان شفقت


    انکل ٹام، آپ نے معاملے کے ایک گھمبیر پہلو کی نشاندہی کی ہے۔ مثال کے طور پر اب اس بچارے شوہر کو ہی دیکھ لیں، کیسے پٹ رہا ہے “بے چارہ”

  14. 14عمران اقبال

    سب قارئین کی پسندیدگی اور تبصروں کا بہت بہت شکریہ۔۔۔ امید ہے کہ اپنے تبصروں اور مشوروں سے ایسے ہی نوازتے رہیں گے۔۔۔
    فی امان اللہ۔۔۔

ٹریک بیکس

  1. 1. یاسر خوامخواہ جاپانی
  2. 2. Dr Jawwad Khan
  3. 3. Dr Jawwad Khan
  4. 4. افتخار اجمل بھوپال
  5. 5. Darvesh Khurasani
  6. 6. عادل بھیا
  7. 7. وقاراعظم
  8. 8. جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین
  9. 9. بیویوں کے شرعی فرائض « دائرہ فکر… عمران اقبال
  10. 10. خرم ابن شبیر
  11. 11. انکل ٹام
  12. 12. Saad
  13. 13. pakaroosa
  14. 14. احمد عرفان شفقت
  15. 15. عمران اقبال
  16. 16. دائرہ فکر – ابنِ اقبال - خاوند اور بیوی کے مشترکہ حقوق:

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔