سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔۔۔

1,129 بار دیکھا گیا

بیس سال کا تھا جب سگریٹ نوشی کی شروعات کی۔۔۔ فیشن کے طور پر نہیں بس ایویں۔۔۔ دراصل، نوکری کے سلسلے میں گھر سے دور رہتا تھا۔۔۔ ڈیوٹی کے بعد اپنے کمرے میں بند ہو جاتا تھا اور سوشل زندگی نا ہونے کے برابر تھی۔۔۔ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے ایک بار سگریٹ جلا لی۔۔۔ پھر وہ دن اور آج کا دن سگریٹ نوشی نے میرا ساتھ نا چھوڑا۔۔۔ دس سال سے دن کی ایک ڈبی ختم کرنا معمول ہو چکا ہے۔۔۔ گھر والوں نے بہت سمجھایا۔۔۔ لیکن سب کے مشورے ایک کان سے سنے اور دوسرے سے اڑا دیے۔۔۔ شروع میں کہا کرتا تھا کہ جب چاہوں گا سگریٹ چھوڑ دوں گا۔۔۔ لیکن یہ دعویٰ بھی فضول ہی تھا۔۔۔کہ خاک چھوٹتی ہے منہ سے لگی ہوئی۔۔۔ ابو تو غصے میں یہاں تک کہتے کہ سگریٹ پیتاہے تو شراب بھی پیتا ہو گا۔۔۔ مجھے دیکھتے، میرے چھوٹے بھائی نے بھی سگریٹ نوشی شروع کر دی۔۔۔ اور اس کا الزام آج تک میرے سر پر آتا ہے۔۔۔ اور سچ بھی ہے۔۔۔ میں نا پیتا تو شاید وہ بھی نا پیتا۔۔۔

 

ws_Sketch_of_a_smoker_1024x768

اب تیس سال کی عمر میں  کافی عرصہ سے محسوس کر رہا تھا کہ دس قدم چلتے ہی میرا سانس پھول جاتا ہے۔۔۔ تھوڑا سا بھی مشقت کرنے سے اپنی سانس پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ پسینہ پسینہ ہو جاتا ہوں۔۔۔ توند بھی آہستہ آہستہ آگے کی جانب کھسک رہی ہے۔۔۔ بازوں میں طاقت نہیں رہتی اور ٹانگیں زیادہ بوجھ اٹھا نہیں پا رہی۔۔۔ وزن بھی بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔

اب جب یہ ساری علامات آہستہ آہستہ میرے سامنے آئیں تو مجھے کچھ کچھ پریشانی شروع ہو گئی کہ کہیں کوئی بڑا مسئلہ نا ہو جائے۔۔۔ صحت مزید خراب نا ہو جائے۔۔۔ اور میں بھری جوانی میں ہی بڈھا نا ہو جاوں۔۔۔

گھر کے قریب نیا جم کھلا تو سوچا بہت ہو گئی۔۔۔ اب کچھ مشقت کی جائے۔۔۔ شاید طبیعت کچھ سنبھل جائے۔۔۔ اور سٹیمنا بھی بہتر ہو جائے۔۔۔

دو دن جم میں مشقت کے بعد ہی یہ اندازہ ہو گیا ہےکہ میرے جسم میں سگریٹ نوشی نے اپنا وہ زہر چھوڑا ہے جس نے مجھے عمر سے قبل ہی کمزور کر دیا ہے۔۔۔میرے لیے دس منٹ ٹریڈ مل پر جاگنگ کرنا بھی عذاب جان ہو گیا ہے۔۔۔ سائیکلنگ کرنا تو اور مشکل۔۔۔ کہ دو پیڈل چلے نہیں اور سانس پھول گئی اور سارا جسم پسینے سے نہا گیا۔۔۔۔ شرمندگی الگ ہوتی ہے کہ میری ہی عمر والے لوگ بھاگے جا رہے ہیں اور میں۔۔۔ بس دو قدم۔۔۔!!!  گھر کے باہر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو دل چاہتا ہے کہ کاش میرا سٹیمنا بھی ان جیسا ہو جائے۔۔۔

بڑی شد و مد کے بعد اب سوچ لیا ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔۔۔ اتنی ہمت تو نہیں ہے مجھ میں کہ یک دم چھوڑ دوں۔۔۔ پلان کے مطابق، روز کی بنیاد پر سگریٹوں کی تعداد میں کمی کرنی ہوگی۔۔۔ اور چاہے جتنا بھی مشکل ہو، جم میں محنت کرنی ہوگی۔۔۔ تاکہ میں اپنی بیٹی کے لیے صحت مند رہ سکوں۔۔۔ کہ میں اس کی خوشیاں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

میری گزارش ہے سب سے۔۔۔ کہ سگریٹ نوشی ایک لعنت ہے۔۔۔۔ یہ انسان کی صحت کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔۔۔ اور اندر اندر گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔۔۔ خدارا اس لعنت سے بچیں۔۔۔

ٹیگز:

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

23 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: