عمرانیات » سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟

سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟

بدھ, 1 جون 2011, 15:41 | زمرہ: عشق الہی
ٹیگز: , ,

کوئی سمجھائے مجھے۔۔۔

حدیث اور سنت میں کیا فرق ہے۔۔۔؟

سنت وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔۔۔

حدیث وہ الفاظ، احکامات یا ارشادات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔۔۔

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا۔۔۔ ان کا حکم نہیں دیا۔۔۔؟

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔۔۔ خود اس پرعمل نہیں کیا۔۔۔؟

کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل میں تضاد تھا۔۔۔؟

اگر ایسا نہیں ہے جو میرے جیسا جاہل سمجھ رہا ہے تو کیوں ہم سنت اور حدیث کو مختلف ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔۔

خدا کے واسطے کوئی تو سمجھائے مجھے۔۔۔



17 تبصرے برائے “سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟”

  1. 1muhammad saeed palanpuri

    Ye to aap ne bara tafsili mozo cher diya

  2. 2ضیاءالحسن خان

    یہ تو جب ہوتا ہے جب کوئی اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور میرے خیال سے یہ سوال کسی مفتی سے پوچھو وہ تم کو تسلی بخش جواب دیگا

    ورنہ یہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو معازاللہ اسکا بھی مذاق اور تمسخر اڑانے سے باز نہیں آئے گا

  3. 3قیصرانی

    دین کو اتنا مشکل کر دیا گیا ہے کہ اگر کچھ بھی کرنا چاہیں تو ہمیں براہ راست اس موضوع کے سپیشلسٹ کی طرف کنسلٹ کرنا پڑتا ہے۔ اب سپیشلسٹ نے اپنی سپیشلائزیشن کے اخراجات کو بھی تو پورا کرنا ہے نا اور دوسروں کی برائی بھی، کہ اپنی دکان کا مال زیادہ بکے۔۔۔

  4. 4افتخار اجمل بھوپال

    محمد سعيد پالنپوری صاحب اس کا ماشاء اللہ مکمل جواب دے سکتے ہيں ۔ ميں اُن کے حق ميں دستبردار ہوتا ہوں

  5. 5عمران اقبال

    شاکر عزیز صاحب نے میرے سوالات کا جواب اپنے بلاگ پر مفصل طریقے سے بیان کیا ہے۔۔۔ لنک یہ ہے۔۔۔
    http://awaz-e-dost.blogspot.com/2011/06/blog-post.html
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    اور یہ رہا میرا تبصرہ جو ان کے بلاگ پر میں نے کیا۔۔۔
    “جناب آپ کی ایک مثال پلے پڑ گئی۔۔۔ بہت شکریہ۔۔۔

    میرا سوال کچھ یوں تھا۔۔۔
    کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا۔۔۔ ان کا حکم نہیں دیا۔۔۔؟

    کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔۔۔ خود اس پرعمل نہیں کیا۔۔۔؟

    ان سوالات میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال اور فرمودات کے بارے میں آپ سب سے پوچھا گیا تھا۔۔۔ نا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم تک پہنچائے گئے واقعات کے بارے میں۔۔۔”

  6. 6انکل ٹام

    حدیث کہتے ہیں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر کو ، تقریر کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی نے کوی بات کی یا کوی کام کیا تو آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے وہ بات سنی اور اس کام کو دیکھا لیکن اس سے منع نہیں فرمایا تو یہ بھی حدیث ہے، کیونکہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے خاموش رہ کر اسکا جواز ثابت فرما دیا ۔

    کچھ محدثین کے نزدیک حدیث صرف قول پر اور سنت تین یعنی قول فعل اور تقریر پر بولا جاتا ہے ، سنت کی تعریف یہ ہے کہ ما واظب علیہ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم یعنی جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے مواظبت فرمای ہو اور دوام ثابت ہو ۔ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر کہ علیکم بسنت و سنت خلفاء الراشدین والمہدین خلفاء راشدین کی سنت کو بھی امت کے لیے سنت کا درجہ دے دیا ۔

    ایک چیز سنت موکدہ بھی ہوتی ہے ، علامہ عبدالحئی لکھنویؒ نے اپنی ایک کتاب (نام مجھے اس وقت یاد نہیں) میں سنت کی بہت سی تعریفات کی ہیں اور سب کو رد کیا ہے آخر میں ما واظب علیہ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم او خلفاء الراشدون کو پسند فرمایا ہے یعنی جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین نے مواظبت فرمای ہو ۔
    اسی طرح بہت سے اعمال جو حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں لیکن انکو سنت اور سنت موکدہ کا درجہ نہیں دیا گیا ۔

  7. 7عمران اقبال

    انکل ٹام۔۔۔ سنت کی مزید تفصیلات میں جانے کی بجائے۔۔۔ اگر وہ سنتیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔۔۔ اور وہ احادیث جو احکامات کی صورت میں ہیں۔۔۔ ان پر روشنی ڈالیں۔۔۔ تو کیسا رہے گا۔۔۔؟

    آج کل بلاگز پر اسی پر تو زیادہ بحث چل رہی ہے۔۔۔ آپ سمجھ ہی گئے ہونگے کہ میرا اشارہ کس کس بلاگر کی جانب ہے۔۔۔

    اور مجھے یہ بھی قوی امید ہے کہ آپ اس بارے میں میری رائے بھی بخوبی جانتے ہیں۔۔۔

  8. 8انکل ٹام

    عمران اقبال بھای مجھے شاید صحیح علم نہیں کہ آپکا اشارہ کس طرف ہے ، لیکن ایک صاحب نے اپنے بلاگ پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا واقعہ نقل کیا ہے یہ واقعہ جب صحیح احادیث سے ثابت ہے تو وہ اسکا انکار اپنی عقل کی بنیاد پر کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مودودی صاحب کی تفہیم القرآن سے ایک حصہ نقل کیا ہے ، اب کیا یہ حصہ واقعی اس حدیث کے حوالے سے ہے یا نہیں اسکا مجھے علم نہیں لیکن اگر بالفرض یہ مان بھی لیں تو میرے نزدیک مودودی صاحب کی تفہیم معتبر نہیں ہے ، جن لوگوں نے سید قطب کی فی ظلال القرآن دیکھی ہے وہ جانتے ہیں کہ تفہیم تقریباً اسکی کا اردو ترجمہ ہے ۔

    اسی لیے جو کچھ مودودی صاحب نے (اگر واقعی انہوں نے ) لکھا ہے وہ بلکل غلط ہے کیونکہ جب بات صحیح سند سے ثابت ہو گئی آپ اپنی عقل استعمالتے ہوے اسکو کیسے رد کر سکتے ہیں ؟اور پھر یہ کہہ رہے ہیں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی بجائے راویوں کا مزاج جھلکتا ہے یعنی دوسرے الفاظ میں حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں راویوں نے تحریف کر دی ، واہ کیا بات ہے ۔ یہ صرف اور صرف احادیث کے حوالے سے لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کیونکہ صاحب مضمون نے اپنے مضمون میں اصل نکتہ اعتراض بھی کھل کر بیان نہیں کیا، چونکہ انہوں نے اپنی عقل کو بنیاد بنا کر حدیث کا رد کیا ہے لہذا اگر ہم انکو عقل کے مطابق جواب دینے بیٹھیں یا دیگر دلائل سے جواب دینے بیٹھیں تو یہ جاننے سے قاصر رہیں گے کہ انکو جواب کس نکتے کا دینا ہے ، آیا کہ انکو ان شاءاللہ کہنے والی بات پر اعتراض ہے یا پھر ایک ہی رات میں ستر عورتوں کے پاس جانے پر اعتراض ہے ۔

    پھر وہ کہتے ہیں کہ انسان غور و فکر کرے حکمت اور تدبر کو استعمال کرے ٹھیک ہے بلکل کرے اسلام نے بھی اسکی اجازت دی ہے کہ غور و فکر کرو اللہ کی بنای ہوی چیزوں پر لیکن یہ کسی نے نہیں کہا کہ اپنے ناقص غور و فکر کی بنیاد پر ان چیزوں کا رد ہی کرنا شروع کر دو اور فیصلے کرنا شروع کر دو ۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا آپکی عقل کامل ہے کہ آپ قرآن اور حدیث کا رد کر سکیں ؟؟؟

    میں تو صرف اس بارے میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ عقل کی بنیاد پر نہ تو قرآن کا رد کیا جا سکتا ہے نہ ہی احادیث کا ،اگر آپکو یہ ثابت کرنا ہے کہ اس حدیث میں راوی کی طرف سے زیادت ہے تب بھی آپ اسکی بنیاد مفروضات پر نہیں رکھ سکتے آپکو کتب حدیث ، شروحاتِ حدیث وغیرہ کی کتب سے پہلے تو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اس حدیث میں فلاں جگہ راوی کی طرف سے زیادت ہے اور پھر یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ اس جگہ راوی کی زیادت قابلِ قبول نہیں ، کیونکہ کچھ جگہوں پر راوی کی طرف سے زیادت ہوتی ہے یہ بات ہم تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ اصول بھی ہے کہ اگر راوی ثقہ اور عادل ہو تو اسکی زیادت بھی قابل قبول ہوتی ہے ۔ کیونکہ حدیث راوی نے نے خود براہِ راست سنی ہے اور وہ اسکو سمجھا ہے نہ کہ آپ ۔

    یہ صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ تفسیروں سے قرآن کو سمجھا نہیں جا سکتا، یعنی قرآن کو خود سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہی ہوتا کہ میں ایک کتاب بھیج رہا ہوں انسان اسکو خود سمجھے تو ساتھ ایک نبی اور رسول کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ؟؟؟ قرآن کو کعبہ پر رکھ دیا جاتا لوگ خود آکر اسکو پڑھتے اور اسکو اپنی سمجھ کے مطابق سمجھتے اور عمل کرتے اور عرب تو بہت بڑے عربی دان تھے کتاب بھی انہی کی زبان میں تھی انکو ترجمے کی بھی ضرورت نہ تھی پھر کیوں اللہ تعالیٰ نے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ؟؟۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسا مقصد تھا ہی نہیں مقصد یہ ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب دی اور ساتھ اسکو سمجھانے والے کو بھی بھیجا یعنی میری کتاب کو میری مرضی کے مطابق ہی سمجھا جاے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب میں ہی بہت سی باتوں کا حکم تو دیا لیکن حکم ادا کرنے کا طریقہ نہین بتایا ، کہہ دیا رکوع کرو ، اب رکوع کیسے کرنا ہے یہ نبی پر چھوڑ دیا کہ نبی امت کو بتاے گا ، کہا زکوٰۃ ادا کرو، زکوٰۃ کیسے ادا کرنی ہے نبی نے بتانا ہے ۔

    میں نے ایک جگہ یہ بات کہی تھی کہ تواتر کا منکر کافر ہوتا ہے ، اور ہمیں تواتر کو ماننا ہے اگر یہ حدیث تواتر سے ثابت ہو جاے تو اسکا انکار کرنے والا دائرہ اسلام سے باہر ہو گا اسی طرح تواتر معنوی کو بھی ہمیں ماننا ہے یعنی قرآن اور حدیث کو اسی طرح سمجھنا ہے جس طرسلف الصالحین نے سمجھا تھا ۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بتا دی کہ اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و الوالامر منکم ۔

    میں یہ بلکل بھی نہین کہتا کہ آپ قرآن کو نہ سمجھیں، ضرور سمجھیں لیکن ایک سمجھے ہوے کی رہنمای میں جیسے آپ جب بیمار ہوتے ہین تو میڈیکل کی کتابوں کو خود پڑھ کر اپنے لیے دوای تجویز نہین کرتے بلکہ ڈاکڑ جو سمجھا ہوا ہے اسکے پاس جاتے ہیں اسی طرح دین میں بھی آپ عالم کے پاس جائیں گے جس نے سالوں لگا کر ان چیزوں کو سمجھا ہے ۔ آپ کی عقل ، غور و فکراور تدبر آپکے علم پر مبنی ہوتا ہے اور اسکے مطابق آپ چیزوں کو سمجھتے ہیں ۔ جب آپکو دین اور اصولِ دین کا علم ہی نہیں تو آپ قرآن کو خود کیسے سمجھیں گے ؟؟؟؟ ابھی ان صاحب سے اگر تفسیر اور ترجمہ کے بنیادی اصولوں کے بارے میں پوچھ لیا جاے تو انکو کچھ پتا نہین ہو گا ۔

    صرف اور صرف قرآن کے ترجمہ کے لیے علماء نے پچیس علوم بتاے ہیں جن میں سے آٹھ مکمل طور پر عربی سے متعلق ہیں انسے پوچھیں کہ آپکو عربی آتی ہے جو آپ قرآن کو خود سمجھنے کے دعویدار ہیں ۔۔۔۔

  9. 9افتخار اجمل بھوپال

    اس سلسلہ ميں ميں نے آج اپنی ايک پرانی تحرير سے اقتباس نقل کيا ہے

  10. 10وقاراعظم

    کسی کی تفسیر کو معتبر سمجھنا یا نہ سمجھنا تو ایک الگ بحث ہے لیکن یہ پہلی بار پتہ چلا کہ مولانا مودودی اوہ معذرت [بغض و عناد کی وجہ سے مخالفین کو مولانا نہیں لکھا جاسکتا] مودودی صاحب کی تفہیم القرآن سید قطب شہید کی فی ظلال القرآن کا ترجمہ ہے۔

    لوگ باگ الزام لگاتے ہیں کہ سید قطب نے نظریات مودودی صاحب سے مستعار لیے۔ عدالتی ٹرائل کے دوران ان پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ موصوف دہشت گردی کو ہوا دینے والے مودودی کے نظریات کا پرچارک ہے۔ لیکن یہاں یہ پہلی دفعہ پتہ چلا کہ مودودی صاحب نے تو چھاپہ لگایا تھا۔ خیر سے مودودی صاحب نے وکی پیڈیا کے مطابق 1942 سے 1972 کے دوران تفہیم القرآن لکھی اور درمیان میں وقتاً فوقتاً مختلف حصے شایع ہوتے رہے اور فی ظلال القرآن 1951 سے 1965 کے دوران جیل میں لکھی گئی۔

  11. 11بنیاد پرست

    ہمارے ایک عالم نے اپنی ایک کتاب میں سنت و حدیث میں فرق بہت خوبصورتی کے ساتھ سمجھایا ہے، میں اسے نہایت اختصار کے ساتھ یہاں لکھتا ہوں، امیدہے آپ کے سامنے فرق واضح ہوجائے گا۔

    سنّت کسے کہتے ہیں؟

    ہم اپنے روزمرہ کے کاموں پر نظر دوڑائیں تو پتا چلے گا کہ ہم اپنے کاموں کو دو حصّوں میں تقسیم کر لیتے ہیں۔ ایک وہ کام جو ہم عادةً کرتے ہیں۔اور ایک وہ کام جو کبھی کبھی اور ضرورتاً کرتے ہیں۔ ۔یقینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک کام بھی ان دو حصوں میں تقسیم ہیں۔ کچھ کا م آپ عادةً فرماتے تھے اور کچھ کام ضرورةً فرماتے تھے۔اب ہمارے سامنے حدیث میں دونوں کاموں کا تذکرہ آئے گا۔ ۔سنت والے کا م کا بھی اور عادت والے کام کا بھی۔ اب ان میں سے ہم نے تابعداری کن کاموں کی کرنی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمادیا علیکم بسنّتی ۔وہ جو میں عادةًکام کرتا ہوں ان کی تابعداری کرو
    کیونکہ سنت کا معنیٰ ہے “چلنے کا راستہ” اورچلنے کا راستہ وہی ہوتا ہے جس پر آنا جانا معمول کا حصہ ہو، ضرورت والے کام معمول کا حصہ نہیں اسی لیے انہیں سنت نہیں ۔
    اس بات کو ایک دو مثالوں سے سمجھیں

    پہلی مثال :
    ہم روزانہ وضو میں کلّی کرتے ہیں۔ حدیث کی کتابوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مبارک عادت کا تذکرہ ہےکہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ وضو میں کلی فرماتے تھے۔ اب احادیث کی کتابوں میں ایسی حدیث بھی ملتی ہیں کہ وضوکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی سے بوس وکنار بھی فرمایا ہو۔ یہ عادت نہیں تھی بلکہ ضرورت تھی۔(کیونکہ پیغمبر پر مسئلہ سمجھانا بھی ایک ضرورت ہو تی ہے کہ کہاں تک وضو ہے اور کہاں تک ٹوٹ گیا)۔
    اب ہمارے سامنے ہے کہ وضو کے بعدبیوی سے بوس و کنار کی حدیث آتی ہے۔لیکن آپ لوگوں نے زندگی میں جتنے وضو کیے تو کیا جس طرح آپ ہر وضو میں کلی کرتے ہیں کیا اسی طرح ہر وضو کے بعد بیوی سے بوس و کنار بھی کرتے ہیں؟
    اور اگر نہیں کرتے تو کیا آپ کو دل جھنجھوڑتا ہے کہ آج سنّت کا ثوا ب نہیں ملا؟
    آخر کیوں؟
    وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے اور یہ بھی ۔فرق کیا ہے کہ وہ(کلی کرنا)صرف حدیث نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ ہے اوریہ صرف حدیث ہے۔ہمیں حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ کو اپنانے کا۔اس لیے ہم وضو کریں گے کلی کریں گے اور نماز پڑھیں گے۔ یہ ہوا سنت پر عمل ۔ اور اگر ہم وضو کر کے بیوی سے بوس و کنار کریں گے تو یہ ہے حدیث پر عمل نہ کہ سنت پر۔

    دوسری مثال :
    بخاری ومسلم میں حدیث موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔جوتے اُتار کر نماز پڑھنے کی حدیث بخاری ومسلم میں بالکل ہی نہیں ہے بلکہ ابو داﺅد شریف میں ہے۔لیکن کیونکہ جوتے اُتار کر نماز پڑھنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی ۔اس لیے امت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی عادت کو اپنایا اور اسی لیے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق جوتے اُتار کر نماز پڑھتے ہیں اگرچہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کی احادیث بخاری ومسلم میں موجود ہیں ۔یہ ہے سنت اور حدیث میں فرق۔

    اسی طرح کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی حدیث بخاری ومسلم میں موجود ہے جبکہ بیٹھ کہ پیشاب کرنے کی حدیث بخاری ومسلم میں بالکل ہی نہیں بلکہ ترمذی وابو داﺅد میں ہے۔لیکن بیٹھ کر پیشاب کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کو امت نے عادةً ہی اپنایا ۔اور ساری امت بیٹھ کر پیشاب کرتی آ رہی ہے۔

    سابقہ مثالوں سے معلوم ہو گیا جو بات بھی حدیث میں آجائے ضروری نہیں کہ وہ سنت بھی ہو۔چند مزید نکات:

    1 – ہر سنت کا حدیث سے ثابت ہونا ضروری ہے مگر ہر حدیث کا سنت ہونا ضروری نہیں۔
    2 – اس طرح حدیث کبھی ضعیف بھی ہوتی ہے مگر سنت کبھی ضعیف نہیں ہوتی۔

    یہ فرق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے لے کر عصرِحاضر کے علماء تک ملحوظ رکھا آرہا ہے،اور اہل سنت کے تمام مسالک کے حضرات تسلیم کرتے ہیں، اس قسم کے فرق کو سمجھنے کے لیے جو علم ، فطری فہم اور ایمانی فراست درکارہوتی ہے اسے علم الفقہ ہے۔

  12. 12عمران اقبال

    قارئین کے لیے اسی سلسلے کی ایک اور بہترین تحریر، جناب افتخار اجمل صاحب کے بلاگ سے…
    http://www.theajmals.com/blog/2011/06/%D8%B3%D9%8F%D9%86%D9%91%D8%AA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D8%AF%D9%8A%D8%AB-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%DA%A9%D8%B1%D8%A7%D8%B1/

  13. 13محمد سعید پالن پوری

    افتخار اجمل صاحب اس ذرہ نوازی پر سوائے دعا کے اور کیا کہوں۔ جزاک اللہ خیرا فی الدارین
    صحیح مشورہ تو وہی ہے جو ضیاء نے دیا کہ یہ سوالات کسی مفتی سے کرنے چاہئیں۔ البتہ اگر اس موضوع پہ ہم گفتگو کرلیں سیکھنے سکھانے کے مقصد سے تواس میں میرے خیال سے کوئی حرج نا ہونا چاہئے۔ گفتگو کا مطلب یہ کہ فتوی دئے بغیر کچھ معلومات کا تبادلہ ہوجائے۔آپ میری باتوں پہ تنقیدی نگاہ ڈالیں اور میں آپکی.
    آپ کی یہ پوسٹ کئی سارے سوالات رکھتی ہے۔ سب کو الگ الگ دیکھتے ہیں
    1: حدیث اور سنت میں فرق ہے؟
    جی ہاں فرق ہے مگر یہ فرق کالا اور سفید جیسا نہیں ہے کہ دونوں کبھی یکجا ہو ہی نہیں سکتے ان میں جو فرق ہے وہ ایسا ہے جیسے سفید اور جانور۔ کہیں دونوں یکجا ہوجائیں گے جیسے بگلا سفید بھی ہوتا ہے اور جانور بھی ۔ کہیں پہلا ہوگا دوسرا نہیں جیسے سفید کپڑا سفید تو ہے مگر جانور نہیں. اور کہیں دوسرا ہوگا مگر پہلا نہیں جیسے بھینس جانور تو ہے مگر سفید نہیں ہے۔ حدیث اور سنت بھی ایسے ہی ہیں کہ کہیں یہ دونوں یکجا ہوجائیں گے
    کہیں حدیث ہوگی سنت نہیں اور کہیں سنت ہوگی مگر حدیث نہیں۔ سب کی مثالیں اگر آپ چاہیں گے تو دے دی جائیں گی۔
    2:سنت اور حدیث کی تعریف کیا ہے؟
    آپ نے بھی دونوں کی تعریف کی ہے اس میں حدیث کی تعرف تو صحیح ہے مگر سنت کی نہیں کیونکہ اگر آپ کی تعریف کو درست مانا جائے(سنت وہ عمل جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔۔۔) تو پھر کھڑے ہوکر پیشاب کرنا سنت ہونا چاہئے کیونکہ آپ ؐ نے یہ عمل کیا ہے چاہے ایک دفعہ ہی صحیح ۔ سنت کی تعریف صحیح نہ ہونے کی وجہ سے سارے سوالات کھڑے ہوتے ہیں اور حضور ؐ کے قول و عمل میں تضاد نظر آتا ہے جیسا کہ آپ بھی آگے سوال کر رہے ہیں۔ (میں تعریف آگے کروں گااس پر آپ کو اعتراض کا حق ہوگا)
    3: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل کیا۔۔۔ ان کا حکم نہیں دیا۔
    جی ہاں ایسا ہوا ہے ۔ مثال اوپر گذری کہ آپؐ نے خود کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا ہے مگر ایسا حکم آپؐ نے امت کو نہیں دیا۔(اس پر یہ سوال کھڑا ہو گا کہ پھر آپؐ نے خود ایسا کیوں کیا اس کا جواب آپ کہیں گے تو دے دیا جائے گا۔
    4: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا۔۔۔ خود اس پرعمل نہیں کیا۔۔
    جی ہاں ایسا بھی ہوا ہے ۔ بخاری کی روایت ہے آپؐ نے فرمایا:صلوا قبل المغرب:مغرب کی نماز سے پہلے نفلیں پڑھو۔ آپؐ اگر چہ نفل پڑھنے کا حکم دے رہے ہیں مگر خود آپؐ نے مغرب سے پہلے یہ نفل کبھی نہیں پڑھے۔ یہاں بھی وہی اوپر والا سوال کھڑا ہوگا کہ پھر ایسا کہا کیوں دیا۔
    5:کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول اور فعل میں تضاد تھا۔۔۔؟
    اگر آپ احادیث کا سرسری مطالعہ کریں گےتو ایک نہیں کئی جگہ آپکو تضاد نظر آئے گا. ماہرین نے انہیں تضادات کو ختم کرنے کیلئے اپنی ساری عمریں اس خار دار وادی میں گذار دی ہیں۔
    فالحال بھائی اتنا ہی وقت ملا

  14. 14تحریم

    لگتا ہے یہ بات قصرانی صاحب کو بہت معمولی سی لگتی ہے
    ان کی نگاہ میں کوئی بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر دماغ کا غیر معمولی علاج کر سکتا ہے
    محلے کے بخار والے ڈاکٹر سے یہ آنکھ چیک کر وا کر آنکھ کا آپریشن کروالیں گے

    گر ہان تو یہ ان کی سوچ ہے یہ دین کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں

    اور اگر نہیں تو پھر دین کے لئے کسی بھی عالم کے پاس جانے سے گھبراہٹ کیسی؟

    جانے آپ کون سے عالم کے پاس جاتے ہیں جو کسی بھی مسلمان کو ایسے ہی برا کہہ سکتا ہے اپنا نظریہ درست کیجئے

    اسلام سادہ سا دین ہے اور سادی ہی باتیں ہیں

    سنت اور حدیث میں اتنا ہی فرق ہے جتنا شعور اور فہم و ادراک میں

    مطلب و معنی خود تلاش کیجئے

  15. 15محمد سعید پالن پوری

    اوہ میں آپکا مقصد اور پوسٹ کی شان نزول سمجھنے میں چوک گیا ڈاکٹر صاحب کی پوسٹ کے بعد سمجھ میں آیا ہے.ذہنی پراگندگی کیلئے معذرت خواہ ہوں

  16. 16عمران اقبال

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    سب سے پہلے تو سب قارئین اور مبصرین کا بہت شکریہ کہ آپ سب نے اپنے اپنے علم کے مطابق مجھ جیسے جاہل انسان کو کچھ نا کچھ سکھا ہی دیا۔۔۔ بے شک مجھے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا۔۔۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل عطا فرمائی ہے اور اچھے برے کی تمیز سکھائی ہے۔۔۔ قرآن اور حدیث و سنت کی روشنی میں ہمارے لیے ضابطہ حیات مقرر کیا۔۔۔ اب کئی مسائل ایسے ہیں جو مختلف احادیث میں ہیں۔۔۔ اور سنت میں ہمیں ان کی مختلف مثال ملتی ہے۔۔۔ میرا ماننا یہ ہے کہ بجائے اسے تنازعہ بنانے کے، کیا ہم یہ سوچ کر اس پر عمل نہیں کر سکتے کہ اس حدیث یا سنت پر عمل کرنے سے اگر مجھ پر، میرے معاشرے پر اور میرے ایمان پر کوئی مسئلہ نہیں آتا تو میں اسے اپنا لوں۔۔۔ اور اس پر صدقِ دل سے عمل کروں۔۔۔ ۔نقصان تو کسی نا نہیں ہو رہا۔۔۔

    کیا ضروری ہے کہ جو بات مجھے پسند ہے وہ دوسروں کو بھی پسند ہو اور وہ بھی اس پر ہی عمل کریں۔۔۔ جی نہیں۔۔۔ یہ بلکل ضروری نہیں۔۔۔ کیا ہم سائنس اور فلسفے کی بنیاد پر اپنے قرآن، حدیث اور سنت پر انگلیاں اٹھانے کی جسارت کر سکتے ہیں۔۔۔ کیا ہم یہ ایمان نہیں بنا سکتے کہ جو اللہ نے ہمارے لیے حکم دیا ہے۔۔۔ اسے کرنے میں ہماری کوئی نا کوئی بھلائی اور اللہ تعالیٰ کی کوئی نا کوئی مصلحت ضرور ہو گی۔۔۔ کیا ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم بال کی کھال اتاریں۔۔۔ اور عاقبت اندیشی کی آخری حدوں کو بھی پار کر جائیں۔۔۔

    آخر میں، بنیاد پرست بھائی، سعید پالن پوری صاحب، میرے پیارے انکل ٹام اور اجمل انکل کا بہت بہت شکریہ کہ انہوں نے وقت نکال کر مدلل اور بہترین جوابات سے نوازا۔۔۔

    تحریم اور ضیا بھائی۔۔۔ آپ کے تبصروں کا بھی بہت بہت شکریہ۔۔۔

    میری گزارش ہے چند بلاگر حضرات سے۔۔۔ کہ خدا کا واسطہ، یہودیوں کے پیروکاروں کی طرح ہمارے مذہب کو مزید کمپلیکیٹڈ مت کریں۔۔۔ یہ بڑا سادہ دین ہے۔۔۔ اسے کے بارے میں آسانیاں لکھیں۔۔۔ نا کہ مشکل دین کے طور پر اس کی تشہیر کریں۔۔۔

ٹریک بیکس

  1. 1. muhammad saeed palanpuri
  2. 2. ضیاءالحسن خان
  3. 3. قیصرانی
  4. 4. افتخار اجمل بھوپال
  5. 5. عمران اقبال
  6. 6. انکل ٹام
  7. 7. عمران اقبال
  8. 8. انکل ٹام
  9. 9. افتخار اجمل بھوپال
  10. 10. وقاراعظم
  11. 11. بنیاد پرست
  12. 12. عمران اقبال
  13. 13. محمد سعید پالن پوری
  14. 14. تحریم
  15. 15. محمد سعید پالن پوری
  16. 16. عمران اقبال
  17. 17. سنت اور حدیث میں فرق۔۔؟؟؟ | Tea Break

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔