عمرانیات » روزہ دار کی ڈائیری

روزہ دار کی ڈائیری

ہفتہ, 13 جولائی 2013, 1:53 | زمرہ: طنز و مزاح, عشق الہی
ٹیگز: , , ,

دوستوں کے ساتھ سگریٹ اور شیشے کی محفل میں مذہب، سیاسیات اور اقتصادیات پر سیر حاصل بحث کے بعد رات دو بجے تھکا ہارا گھر پہنچا ۔۔۔ ارادہ تو یہ تھا کہ کچھ قرآن پڑھوں گا اور اللہ کو یاد کروں گا۔۔۔ لیکن ٹھنڈے کمرے میں داخل ہوتے ہی آرام دہ بستر کی گرمائش نے یاد اللہ کا ارادہ بدل دیا۔۔۔ دل نے کہا۔۔۔ “ابھی تو آیا ہے، تھوڑا آرام کر لے۔۔۔ ساری رات باقی ہے۔۔۔” اور نا چاہتے ہوئے بھی سونا پڑا۔۔۔

صبح ساڑھے تین بجے بیگم نے اٹھایا کہ سحری کی جائے۔۔۔ کون کمبخت اتنی پیاری نیند چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن خالی پیٹ روزہ رکھنا بھی مشکل تھا۔۔۔ بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا۔۔۔

فجر کی نماز جیسے تیسے پڑھ کر نیند جیسی نعمت عطا کرنے کے لیے اللہ کا ڈھیروں شکر ادا کیا اور خوابِ خرگوش کے مزے لینے لگا۔۔۔

ابھی سوئے ہوئے کچھ ہی گھنٹے ہوئے تھے کہ بیگم نے پھر اٹھایا کہ جمعہ کی نماز کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔ آنکھیں مسلتے پھر اٹھا اور نہا دھو کر مسجد چلا گیا۔۔۔ مسجد تک کے سفر، پھر نماز اور پھر واپسی کے سفر میں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کیا۔۔۔ خاص طور پر نیند ، ای سی اور گاڑی جیسی نعمتوں کے لیے بارہا شکر ادا کیا۔۔۔

گھر پہنچ کر بیگم کو سختی سے منع کیا کہ اب کے مت اٹھانا، عصر کے لیے خود ہی اٹھ جاوں گا۔۔۔ اے سی فل سپیڈ پر آن کر کے کمبل اوڑھا اور پھر سو گیا۔۔۔

عصر کی آزان کانوں میں پڑی۔۔۔ ارادہ کیا کہ اٹھوں اور نماز کے لیے جاوں۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار تہیہ تھا کہ نیند پوری کرنی ضروری ہے۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہو۔۔۔ دل میں سوچا کہ تھوڑی دیر بعد اٹھ کر پڑھتا ہوں۔۔۔ تھوڑی تھوڑی دیر کرتے چھ بج گئے۔۔۔ اٹھتے ہی بیگم کو ڈانٹا کہ عصر کے لیے کیوں نہیں اٹھایا۔۔۔ گھر پر ہی نمازِ عصر ادا کی۔۔۔ اور لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔۔۔ خبریں پڑھتے ، ای میلز دیکھتے، جوں جوں افطار کا وقت قریب آ رہا تھا، انتظار کی گھڑیاں لمبی ہوتی جارہی تھیں۔۔۔ روزہ اپنی آب و تاب سے “لگنا” شروع ہو چکا تھا۔۔۔ اللہ کو یاد کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اور دعا میں اللہ سے ایمان، صبر و استقامت اور نماز روزے سے محبت مانگی۔۔۔

افطار کو دعوتِ ولیمہ سمجھ کر اس پر ٹوٹنے اور پھر تراویح میں بڑی مشکل سے اللہ کے سامنے کھڑے ہونے پر اللہ کا روزہ اچھی طرح گزارنے پر شکر اور قبول فرمانے کی دعا کرتے اگلے روزے کی تیاریاں شروع کر دیں۔۔۔



10 تبصرے برائے “روزہ دار کی ڈائیری”

  1. 1ا ل م

    روزہ سونے کا ہی نام رہ گیا ہے شاید۔

  2. 2محمد سلیم

    آپ نے لکھنے کی ہمت کر ڈالی، ورنہ حال ہمارا بھی ایسا ہی ہے مگر اظہار نہیں کر پاتے۔

  3. 3جواد احمد خان

    عمران بھائی ! آپ نے یہ مضمون لکھ کر آئینہ دکھا دیا ہے۔

  4. 4ﺳﻌﻴﺪ

    ﺩﻝ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮔﺌﯽ ﺳﺎﺩﮦ ﺳﯽ ﻳﮧ ﺗﺤﺮﻳﺮ

  5. 5منیر عباسی

    اللہ قبول کرے ۔۔

    مسلمان دنیا کے جس کونے میں ہوں، رمضان میں ان کی عادات ایک جیسی ہو جاتی ہیں۔
    :۔ڈ

    اور ہاں، درست لفظ سیر حاصل ہے، زیر حاصل نہیں۔

    والسلام

  6. 6علی

    جزاک اللہ جزاک اللہ پر آپ کا یہ فارمولا پاکستان میں نہیں لگ سکتا کہ کون کمخت بجلی کے بنا سو سکتا ہے۔ ہمارے حکمران ہمیں دین سے قریب تر لا کر رہیں گے :p

  7. 7درویش خُراسانی

    سب کی عادات ایک جیسی۔

  8. 8At shad

    Aray bgai kahin bimaar na pr jaein ap.

  9. 9حجاب

    واہ کتنا آسان روزہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔

  10. 10میرا پاکستان

    یہ شیشہ کیا ہوتا ہے جناب؟
    ویسے تحریر جاندار ہے اور معاشرے کی عکاسی کر رہی ہے۔ اسی طرف ہم نے بھی اپنی تحریر میں اشارہ کیا ہے۔

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔