رحمٰن ملک اور تبلیغی مرکز

962 بار دیکھا گیا

مولانا رحمٰن ملک کا نیا فتویٰ سننے کو ملا کہ رائیونڈ والاتبلیغی مرکز دہشت گردوں کا مرکز ہے۔ اور دہشت گردی کی زیادہ تر کاروائیوں کا کوئی نا کوئی سرا تبلیغی جماعت سے ضرور ملتا ہے۔ اب جتنے عالم فاضل اور لائق فائق عالمِ دین مولانا رحمٰن ملک خود ہیں، ان کے احترام میں اس بیان کے بعد تو فوج کا رخ رائیونڈ کی طرف مڑ جانا چاہیے، کوئی بعید نہیں کہ کچھ دنوں میں مفتی کیانی صاحب رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ مولانا صاحب کی بات بھی تو نہیں ٹھکرائی جا سکتی نا۔

211035_164708723590509_6377340_n

کس حد تک خطرناک ہیں ہمارے تبلیغی بھائی۔ چاہے جس بھی مسلک سے ہوں بس بوری بستر اٹھایا اور نکل پڑے مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے۔ نا آگے کی خبر نا پیچھے کا پتا۔ بس جنون سوار ہے، کہ مسلمان کسی طرح اللہ کے قریب ہو جائیں۔ کسی طرح اپنی موت کو یاد رکھیں اور اگلی زندگی کی تیاری کر لیں۔ اب یہ ساری باتیں تو خطرناک ہیں ہی۔ دراصل مولانا رحمٰن ملک صاحب کا خدا زرداری اور دین نام نہاد جمہوریت ہے۔ وہ اپنے خدا کی خدائی میں اللہ کو شامل کر کے “کفر” کے مرتکب نا ہو جائیں گے۔ آخر مولانا صاحب اور ان کے خدا تو بخشے بخشائے آئے ہیں۔ نا ان کو موت آنی ہے اور نا ان کا حساب کتاب ہونا ہے۔ بس زرداری صاحب کی جنت میں داخل ہونے والے اولین جنتی ہونے کا حق بھی تو “مولانا صاحب” کا ہی تو ہے۔


سیدھے سادھے تبلیغی بھائیوں کو دہشت گرد بنا دیا۔ اور کوئی رہ گیا ہے کیا۔۔۔؟ سنی دہشت گرد، بریلوی دہشت گرد، وہابی دہشت گرد، دیوبندی دہشت گرد اور سارے مسلمان ہی دہشت گرد۔ امن پسند رہ گئے تو زرداری صاحب اور ان کے پیامبر جناب مولانا رحمٰن ملک صاحب۔ ہاتھوں میں ملک و ملت کی کنجیاں لیے دنیا بھر کی سیر کو نکلے، مسلمانوں کی سب سے پر امن جماعت کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں ڈال دیا۔

بیان دینا آسان تھا، لیکن اس کا حل تو نا نکال سے۔ کیا حل نکلے گا۔ کچھ دنوں بعد تھوڑا اسلحہ مرکز سے برآمد ہو گا اور مرکز غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔اور بہت سے بھولے بھٹکے مسلمان راستہ ڈھونڈنے سے محروم ہو جائیں گے۔ اللہ کو بھلا دیا جائے گا اور مسلمانیت صرف نام کی رہ جائے گی۔

میں یہ جانتا ہوں کہ دین اسلام تبلیغی جماعتوں کے مرہون منت نہیں۔ لیکن وقت کے تقاضے کے مطابق تبلیغی بھائی بڑی محنت کر رہے ہیں۔ میری نظر سے تو کبھی تبلیغی جماعت کی طرف فرقہ واریت کا کوئی بیان نہیں گزرا۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ امن و سلامتی کا پیغام ہی پھیلایا ہے۔میں خود شارجہ کے تبلیغی اجتماع میں شامل ہوتا رہا ہوں اور مجھے تو ان سے کبھی نفرت اور لغو بیان بازی سننے کو نہیں ملی، جو آج کل کے کئی مذہبی جماعتوں اور مسالک کا وطیرہ ہے۔ انہوں نے تو کبھی امریکہ اور اس کے چیلوں کے بارے میں بھی فتویٰ نہیں دیا۔ وہ تو بس ان خامیوں کو کھوجنے کے لیے کہتے ہیں کہ جن کی وجہ سے آج ہم پر طاغوتی قوتوں کا راج ہے۔ وہ تو ہمارا یہ ایمان مضبوط کرنے پر لگے ہوئے ہیں کہ اللہ کے احکامات کو بھول کر ایسے ہی ذلیل رہوگے جیسے آج ہو، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔ جب دین درست ہوگا تو دنیا بھی ہمارے قدموں میں ہوگی۔ وہ تو کبھی رفع یدین یا نمازکے مسائل پر اپنا وقت نہیں اجاڑتے، وہ تو کہتے ہیں کہ جیسے بھی کرتے ہو، بس کرو اور صدق دل سےکرو۔

سمجھ نہیں آتی کہ رحمٰن ملک کس پراپگینڈہ کولے کر چل رہے ہیں۔ خود تو سورۃ الاخلاص کجا بسم اللہ بھی صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے اور چلے ہیں تہمتیں لگانے۔ تف ہے تم پر رحمٰن ملک۔

 

ٹیگز: , , ,

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

17 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: