درد تنہائی

73 بار دیکھا گیا

 

کبھی چاندنی رات میں سمندر کے کنارے بیٹھ کر چاند کو دیکھا ہے۔۔۔

کبھی اس پر ایک ٹک نظر جمائے چاروں سمت گونجتی پانی کی آواز سنی ہے۔۔۔

کبھی اس تاریکی میں گم کسی کی باتیں یاد کی ہیں۔۔۔

کبھی کسی کو پا کر کھو دینے کا درد محسوس کیا ہے۔۔۔

کبھی حد نگاہ پھیلے سمندر کے سینے میں جو لاکھوں ان کہے قصے چھپے ہیں، وہ سنے ہیں۔۔۔

ہر لہر جو کہانی سناتی ہے اس کو اپنے اندر محسوس کیا ہے؟؟؟؟

کبھی محسوس کیا، کہ سمندر میں کتنا غم ہے؟۔۔۔ کیا وہ میرا غم ہے؟ یا وہ میرے غم کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے؟ کیا محرومی کا احساس دنیا کے کسی احساس سے کم ہے؟ اب رہ بھی کون گیا ہے میرا غم سننے کے لیےسوائے سمندر کے۔۔۔ شاید اسی میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ میری تکلیٖف کو خود میں سما لے۔۔۔ شاید وہ ہی مجھے سمجھ سکے۔۔۔ شاید میرا ہی دکھ ہلکا ہو جائے۔۔۔ شاید سمندر ہی میرا دوست بن جائے۔۔۔ شاید۔۔۔

لیکن میں تھک گیا ہوں۔۔۔ بے بس ہو چکا ہوں۔۔۔ خود سے لڑتے لڑتے۔۔۔ خود کو مارتے مارتے۔۔۔ میرے پاوں کی زنجیریں بہت بھاری ہو گئی ہیں میرے لیے۔۔۔ میں تو اب خود اپنا بھی بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔۔۔ ان زنجیروں کو لے کر کہاں تک چل سکتا ہوں۔۔۔ بہت تھک گیا ہوں اس زندگی سے۔۔۔ یہاں کوئی بھی اپنا نہیں ہے۔۔۔

کوئی بھی نہیں ہے۔۔ تنہائی کے سوا۔۔۔

ایک ہجوم میں رہ کر بھی تنہائی کا سفر جانے کب ختم ہو گا۔۔۔

میرے کشکول میں میری خواہشوں کی تکمیل کب کوئی ڈالے گا۔۔۔

مجھے بے حسی جیسی نعمت کب حاصل ہو گی۔۔۔

میری خود سے جنگ کب تکمیل کو پہنچے گی۔۔۔

میری آنکھوں میں نیند کب اترے گی۔۔۔

کب مجھے وہ ساتھ حاصل ہو گا جو صرف میرا ہو۔۔۔ صرف میرا۔۔۔

شاید کبھی نہیں۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

7 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: