عمرانیات » درخواست

درخواست

جمعہ, 29 اپریل 2011, 1:10 | زمرہ: میرا پسندیدہ کلام, میری محبّت, میرے گیت
ٹیگز:

جو گزروں کبھی میں تمہارے خیالوں میں۔۔۔untitled

تم میرا ہاتھ تھام لینا۔۔۔

میری آنکھوں میں اپنا چہرہ ڈھونڈھ لینا۔۔۔

خاموشی سے، اپنے سینے سے لگا لینا۔۔۔

میری دھڑکن میں اپنا نام سن لینا۔۔۔

قریب اپنے بٹھا کر۔۔۔

الفت کی دو باتیں کر لینا۔۔۔

میرا حال پوچھ لینا۔۔۔

اپنا حال سنا دینا۔۔۔

کچھ قدم میرے ساتھ چل لینا۔۔۔

تحفے میں اک مسکان دے دینا۔۔۔

روک لینا اس پل کو۔۔۔

اک لمحہ میرے نام کر دینا۔۔۔

(شاعرہ: ت ع)




3 تبصرے برائے “درخواست”

  1. 1جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    روک لینا اس پل کو۔۔۔

    عمران بھائی۔ یہ پل ہی تو نہیں رکتا۔ آپ نے کبھی غور کیا ہوگا۔ اس دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ ساری عمر اسے لمحے ۔اس پل کو پانے کے لئیے بھاگتے رہتے ہیں۔ عمریں بِتا دیتے ہیں۔ وہ ایک لمحہ جس میں کوہ قاف کے جادگر کے طوطے کی طرح جس میں جادوگر کی جان بند ہوتی ہے۔ اس لمحے کی کوتاہی ۔ ایک پل کی لاپرواہی کی سنگینی ساری عمر بھگتے ہیں۔ لمحے کے پیچھے بھاگتے ان کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ مگر وہ لمحہ جو کبھی حقیقت تھا ایسا سراب بن جاتا ہے جو کبھی حاصل نہیں آتا اور اس لمحے میں لوگوں کی زندگیاں بند ہوتی ہیں۔
    یہ انسان اس دنیا میں جسقدر پرانا ہے اسی قدر یہ لمحہ ، یہ پل بھی پرانا ہے۔
    روک لینا اس پل کو۔۔۔
    لمحے بھلا کبھی رکے ہیں؟۔

  2. 2افتخار اجمل بھوپال

    جناب ۔ خيالوں ميں اتنا کچھ کيسے ہو جائے گا ؟ خواب کی بات اور ہے

  3. 3عمران اقبال

    جاوید گوندل بھائی۔۔۔ آپ نے لکھا:
    اس دنیا میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ ساری عمر اسے لمحے ۔اس پل کو پانے کے لئیے بھاگتے رہتے ہیں۔ عمریں بِتا دیتے ہیں۔ وہ ایک لمحہ جس میں کوہ قاف کے جادگر کے طوطے کی طرح جس میں جادوگر کی جان بند ہوتی ہے۔ اس لمحے کی کوتاہی ۔ ایک پل کی لاپرواہی کی سنگینی ساری عمر بھگتے ہیں۔ لمحے کے پیچھے بھاگتے ان کی عمریں بیت جاتی ہیں۔ مگر وہ لمحہ جو کبھی حقیقت تھا ایسا سراب بن جاتا ہے جو کبھی حاصل نہیں آتا اور اس لمحے میں لوگوں کی زندگیاں بند ہوتی ہیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جناب۔۔۔ بس یہی کہانی ہے میرے لمحے کی۔۔۔ جس کی لاپرواہی میں شاید آخری سانس تک بھگتا رہوں گا۔۔۔

    افتخار اجمل انکل: درست فرمایا۔۔۔ کہ یہ ساری خواہشات “خواب” سی ہی لگتی ہیں۔۔۔ کاش سچ واقع ہو جائیں۔۔۔

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔