خاوند اور بیوی کے مشترکہ حقوق:

241 بار دیکھا گیا

پہلی قسط: بیویوں کے شرعی فرائض دوسری قسط: شوہر کے شرعی فرائض

ہر مسلمان اس بات کا معترف ہے کہ خاوند کے بیوی اور بیوی کے خاوند پر کچھ حقوق ہیں، قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: 

”اور عورتوں کا حق (مردوں پر) ویسا ہی ہے کہ جیسے دستور کے مطابق (مردوں کا حق) عورتوں پر ہے، البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔” (سورۃ البقرۃ، آیت 228)

اس آیت کریمہ نے خاوند، بیوی دونوں کے ایک دوسرے پر کچھ حقوق و آداب ثابت کیے ہیں، جبکہ خصوصی اعتبار کی بنیاد پر مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ کی خصوصیت حاصل ہے۔

رسول ﷺ نے حجہ الوداع کے موقعہ پر فرمایا:
”سنو! تمہارے لیے تمہاری بیویوں پر حقوق ہیں اور تمہاری عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔” (سنن ابی داود، سنن النسائی، سنن ابن ماجہ، صححہ الترمذی)

ان میں بعض حقوق تو دونون کے لیے مشترکہ اور برابر ہیں جبکہ بعض حقوق ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں، چنانچہ مشترکہ حقوق درج زیل ہیں:

1) امانت: دونوں ایک دوسرے کے امین ہوتے ہیں، کوئی دوسرے کی خیانت نا کرے۔ معمولی چیز ہو یا زیادہ۔  خاوند، بیوی دو شریک ساتھیوں کی طرح ہوتے ہیں، ان میں امانت، خیرخواہی، سچائی اور اخلاص کا پایا جانا زندگی کے ہر موڑ پر ضروری ہے۔

2) محبت اور رحم کا جذبہ: دونوں میں اتنا ہونا چاہیے کہ دکھ سکھ میں ساری زندگی ایک دوسرے کے کام آئیں اور خالص محبت و شفقت کا اظہار کرتے رہیں تاکہ اس ارشاد حق تعالیٰ کا مصداق بنیں:

“ اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کر دیں، تا کہ تم ان کی طرف (مائل ہو کر) سکون حاصل کرو، اس لیے تمہارے درمیان محبت و شفقت پیدا کر دی”۔ (سورۃ الروم، آیت 21)

اور رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی بھی تعمیل ہو جائے: “جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا”۔ (صحیح مسلم، صحیح بخاری)

3) باہمی اعتماد: دونوں میں اس انداز کا باہمی اعتماد ہونا ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر کلی بھروسہ کریں، خیرخواہی، سچائی اور اخلاص میں ایک دوسرے پر شک نہ کریں۔

زوجیت کے رابطہ نے اخوت ایمانی کے ربط کو مزید بڑھا دیا ہے۔۔۔ اس میں پختگی اور اعتماد پیدا کیا ہے۔ اسی وجہ سے خاوند اور بیوی دونوں خود کو ایک ہی ذات سمجھتے ہیں۔۔۔ پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی ذات پر اعتماد نہ کرے اور اس کے لیے خیر خواہی کے جذبات نا رکھے؟ اپنے آپ سے خیانت کون کرتا ہے اور خود سے دھوکہ کون کر سکتا ہے۔۔۔؟

4) حقوق عامہ: معاملات میں نرمی، چہرے کی شگفتگی بات میں ادب و احترام اور یہی وہ اچھی معاشرت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے:

“اور عورتوں سے معروف طریقے کے ساتھ نباہ کرو”۔ (سورۃ النساء، آیت 19)

اور رسول اللہﷺ نے فرمایا: “اور عورتوں کے لیے اچھی وصیت قبول کرو۔” (صحیح مسلم)

نیز ارشاد عالی ہے: “اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا، اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے” (سورۃ البقرۃ، آیت 237)


اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

6 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: