خاندانی منصوبہ بندی یا توکل۔۔۔

80 بار دیکھا گیا

untitled

آصف نے آفس کے ایک کونے میں پڑی اپنی میز سے سر اٹھایا۔۔۔ اور اونچی آواز میں مجھے پکارا۔۔۔ مولانا۔۔۔ اس خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے۔۔۔؟ میں اپنے کسی کام میں حد درجہ مصروف تھا۔۔۔ دیوانے کی ایک بھڑک سمجھ کر اس کی بات کو نظر انداز کر دیا۔۔۔ آصف پھر چلایا۔۔۔ مولانا۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے تو خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دی تھی۔۔۔ میں نے گردن گھما کر ایک بار پھر اسے دیکھا۔۔۔ اور کہا۔۔۔ کہ کہنا کیا چاہ رہا ہے بھائی۔۔۔ تیری تو شادی بھی نہیں ہوئی اب تک۔۔۔ تو تجھے کیا پریشانی ہے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میں اٹھا اور اس کی میز کے پاس چلا گیا اور ساتھ رکھی ہوئی آرام دہ کرسی پر بیٹھ کر سگریٹ جلا لی۔۔۔ آصف نے بات دوبارہ شروع کی۔۔۔ اور کہنے لگا۔۔۔ مولانا۔۔۔ میرے خیال میں خاندانی منصوبہ بندی بھی ایک فتنہ ہے جو امت مسلمہ میں ڈالا گیا ہے۔۔۔ مغرب ڈرتا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔۔۔ یوں ایک دن آئے گا کہ مغرب میں بھی مسلمانوں کی حکومت ہوگی۔۔۔اور مغربی ممالک میں شرعی قوانین لاگو ہو جائیں گے۔۔۔ جس سے ان ممالک کو ڈر لگتا ہے۔۔۔

اس کی بات سن کر میں نے کہا کہ آصف، دنیا بھر میں تو مسلمانوں کی تعداد تقریبا ایک ارب ہو ہی چکی ہے ۔۔۔ اور وہ ایک ارب مسلمان اب تک اپنے ملکوں میں صحیح  “شرعی” حکومت نہیں بنا پائے تو مغرب میں کیسے بنا لیں گے۔۔۔ خاندانی منصوبہ بندی “مسلمانوں کی تعداد” کا معاملہ نہیں، “ایمان” کا معاملہ ہے۔۔۔

آصف مجھے ٹوکتے ہوئے بولا۔۔۔ مولانا پاگل ہوگئے ہو۔۔۔ کہاں خاندانی منصوبہ بندی جیسا معاشرتی مسئلہ اور کہاں ایمان کا معاملہ۔۔۔ دونوں کا کیا لنک بنتا ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا۔۔۔ آصف۔۔۔ اللہ پر، تقدیر اور قسمت پر اور اللہ کی دی ہوئی ہر اچھی یا بری چیز پر “توکل” کرنا ایمان ہے۔۔۔ دنیا اور دین کو ایک ساتھ لے کر چلنا ایمان ہے۔۔۔ اپنے کل کے خوف میں مبتلا ہوئے بغیر اپنے آج میں جدوجہد کرنا ایمان ہے۔۔۔ ہم میں یہ خوف پیدا کیا گیا ہے یا پیدا ہو گیا ہےکہ ہماری فی الحال ہماری تنخواہ دس ہزار روپے ہے تو ہم ایک سے زیادہ بچے پالنے کے کیسے متحمل ہو سکتے ہیں۔۔۔ ہم اپنی روٹی کا بندوبست کریں گے کہ بچے کی فیسوں اور کپڑوں کا۔۔۔ ہم دنیا کے مرید زیادہ ہو چکے ہیں اور اللہ سے ہماری جان پہچان کم ہو چکی ہے۔۔۔ اور توکل کی اسی کمی نے ہمیں اس قسم کی منصوبہ بندی کی بنیاد رکھنے پر مجبور کیا ہے۔۔۔

یوں ہم یہ تو “جانتے ہیں” ہیں کہ اللہ پتھر میں کیڑے کو بھی رزق فراہم کرتا ہے۔۔۔ لیکن ہم یہ “نہیں مانتے” کہ اللہ ہمیں اور ہمارے بچوں کو بھی ہمارے نصیب اور کوششوں کے مطابق رزق دے گا۔۔۔ ہم یہ تو “جانتے” ہیں کہ “اللہ ہے”۔۔۔ لیکن یہ “نہیں مانتے” کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے اور ہم جو مرضی کر لیں۔۔۔ ہمیں اور ہمارے بچوں کو وہی ملے گا جو نصیب میں ہے۔۔۔ اور ہم دنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اللہ کو بھول جاتے ہیں۔۔۔

خاندانی منصوبہ بندی کو اگر عورت کی صحت کا سوچ کر کیا جائے تو کوئی مذائقہ نہیں۔۔۔ لیکن بذات خود میں نسل کشی کے سخت مخالف ہوں۔۔۔ اب کچھ روشن خیال یہ کہیں گے کہ بچوں کی تربیت، پرورش، اچھی تعلیم اور ہمارے بجٹ کا خیال رکھنے کے لیے منصوبہ بندی بہتر ہے۔۔۔ تو میرا ماننا یہ ہے کہ جس روح نے جب جب اس دنیا میں آنا ہے وہ کسی طرح بھی آ کر رہے گی۔۔۔ اور ہمیں، تمہیں یا کسی کو بھی زندگی کی “کوالٹی” کا خیال ہے تو میرا یہ بھی ایمان ہے کہ زندگی کی کوالٹی بھی ہمارے نصیب میں ہے۔۔۔ کہ میں اچھی زندگی گزاروں گا یا بنجارہ بن کر در در ٹھوکریں کھاوں گا۔۔۔ ہاں ہمیں ہر لمحہ بہتر سے بہترین کی کوشش کا حق ضرور عطا کیا گیا ہے۔۔

آصف، جو میری بات سن کر اس سے متفق بھی نظر آ رہا تھا۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ مولانا۔۔۔ لیکن “توکل” کیسے پیدا کیا جائے۔۔۔ کیا توکل خود میں پیدا کیا جاتا ہے یا اللہ نے ہمارے دل دماغ کے کسی کونے میں پہلے سے ہی اسے فٹ کیا ہوا ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا کہ بھائی۔۔۔ توکل تو ہمارے وجود کے ساتھ ہی اس دنیا میں آتا ہے۔۔۔۔ ہاں اسے خود میں کھوجنا پڑتا ہے۔۔۔ اور یہ کھوج تب شروع ہوتی ہے جب اس بات پر پہلے دفعہ فخر محسوس کرو گے کہ تمہارا پروردگار “اللہ” ہے۔۔۔ وہی تمہارا رب بھی ہے۔۔۔ اور  اسی نے تمہیں “مسلمان” پیدا کر کے تمہیں ایک عزت اور شرف بخشا۔۔۔ جب یہ ایمان پیدا ہو جائے گا تو نا صرف “توکل” بلکہ “اطاعت” جیسے نعمت بھی نصیب ہوگی۔۔۔ “توبہ” جیسا شرف بھی بخشا جائے گا۔۔۔ اور مزید سے مزید سیکھنے کی اور اللہ کو جاننے کی مزیدار پیاس سے بھی نوازا جائے گا۔۔۔ پھر دنیا اور دین کو برابر ساتھ لے کر چلنا بھی آ جائے گا۔۔۔ اور یہ سب آ جائے تو تجھے “خاندانی منصوبہ بندی” کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔۔۔ بس تیرا ایمان ہونا چاہیے کہ اللہ نے دیا ہے۔۔۔ وہی رازق ہے اور وہی پالنے میں ہماری مدد بھی کرے گا۔۔۔

آصف، جو عام طور پر میری بہت کم باتوں کو “مانتا” اور “سمجھتا” ہے، مسکراتا ہوا اٹھا۔۔۔ مولانا۔۔۔ کام مشکل  ہے لیکن ہو جائے گا انشاءاللہ۔۔۔ اور یہ کہہ کر سگریٹ جلاتا ہوا باہر نکل گیا۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

9 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: