تھر کا کوئلہ ، پانچ سو برس تک بجلی

3 بار دیکھا گیا

تھر کا کوئلہ ، پانچ سو برس تک بجلی
اعجاز مہر

بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد

پاکستان کے سابق جوہری سائنسدان اور منصوبہ بندی کمیشن کے رکن ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا ہے کہ سندھ کے ریگستان میں جو کوئلہ ہے اس سے آئندہ پانچ سو برسوں تک سالانہ پچاس ہزار میگا واٹ بجلی یا دس کروڑ بیرل ڈیزل یا لاکھوں ٹن کھاد بنائی جا سکتی ہے۔

بی بی سی اردو کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ صحرائے تھر جو کہ دنیا کا نواں بڑا صحرا ہے اس میں نو ہزار چھ سو مربع کلومیٹر میں ایک سو پچہتر بلین ٹن کوئلے کا ذخیرہ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھر میں ٹیوب ویل کھودتے وقت بائیس برس قبل اچانک پتہ چلا کہ وہاں کوئلے کے ذخائر موجود ہیں اور بعد میں سٹڈیز ہوئیں تو پتہ چلا کہ یہاں دنیا کی دوسری یا تیسری بڑی کوئلے کی کان موجود ہے۔

پاکستان کا جوہری دھماکہ کرنے والی سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ اور میزائل پروگرام سے منسلک رہنے والے ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بتایا کہ تھر کول کے فیلڈ کو آٹھ بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے اور تاحال سندھ حکومت نے آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ سمیت پانچ بلاکس الاٹ کیے ہیں جس میں ایک بلاک ان کے نام سے منسوب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک بلاک ایگرو کیمیکل کو ملا ہے جو تھر کول سے پیدا ہونے والی گیس سے کھاد بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول صحرا میں کان کنی کرنا قدرے مشکل اور مہنگا کام ہوتا ہے اس لیے وہ زیرِ زمین کوئلے کو جلا کر بجلی پیدا کرنے کے منصوبہ پر کام کر رہے ہیں اور آئندہ برس مارچ تک وہ اپنا پائلٹ پروگرام مکمل کرلیں گے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے مزید بتایا کہ تھر کے اندر ریت کے نیچے پانی ہے جو سطح سمندر کے برابر ہے اور اس کے نیچے ایک مضبوط مٹی کی چھت ہے جس کے نیچے کوئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی افریقہ میں جس طرح زیر زمین کوئلے سے بجلی پیدا ہو رہی ہے وہ بھی اس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے ان کے بقول راکھ اور دیگر کیمیائی مواد زیرِ زمین رہے گا اور ماحولیاتی مسائل بھی نہیں ہوں گے۔

ان کے بقول وہ ڈرلنگ کے ذریعے آٹھ سے دس انچ چوڑا ایک پائپ نیچے ڈالیں گے اور اس سے ایک سو میٹر کے فاصلے پر اس طرح کا دوسرا پائپ ڈالیں گے۔ ایک پائپ سے آگ لگانے کے بعد ایک مخصوص دباؤ کے ساتھ ہوا چھوڑیں گے تو دوسرے پائپ سے گیس نکلے گی جو ٹربائن چلائے گی اور اس سے سٹیم یعنی بھاپ سے ایک اور ٹربائن چلے گی اور بجلی پیدا ہوگی۔ ان کے بقول کوئلے سے بننے والی گیس سوئی گیس کی طرح ہوگی جو جلانے کے کام بھی آسکتی ہے۔ ’آپ چاہیں تو اس سے بجلی بنائیں، ڈیزل بنائیں، کھاد بنائیں یا پھر گھریلوں یا صنعتی صارفین کو فراہم کریں‘۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے بتایا کہ پاکستان میں جو تھرمل یونٹ ہیں ان کے بوائلر گیس سے بھی چلائے جاسکتے ہیں۔ لیکن ان کے بقول اسی اور نوے کی دہائیوں میں جب گیس کے ذریعے بجلی پیدا کی گئی تو اس میں بنیادی غلطی یہ کی گئی کہ اس کی سکت پچیس فیصد تک قابل استعمال کی گئی۔ جس کی وجہ سے ایک تو گیس جلدی ختم ہوگئی اور دوسرے پلانٹ ناکارہ ہوگئے۔ اگر گیس کی سکت ساٹھ فیصد تک استعمال کی جاتی تو بجلی بھی زیادہ بنتی اور پلانٹ بھی جلدی ختم نہ ہوتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جو ایک بلاک انہیں ملا ہے اس میں سے تیس برسوں کے لیے دس ہزار میگا واٹ سالانہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ان کے بقول آئندہ دس برسوں میں پاکستان کی بجلی کی مانگ تیس ہزار میگا واٹ تک ہوسکتی ہے اور تیس ہزار میگا واٹ صرف تھر کول سے دس برسوں میں حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وہ تو زیرِ زمین کوئلے سے گیس بنانے کا کام مارچ تک مکمل کرلیں گے لیکن بڑے پیمانے پر اس کی پیداوار کے لیے بہت پیسہ اور وقت درکار ہوگا۔ ان کے بقول ان کی فیلڈ سے بجلی پیدا کرنے کے لیے جو ٹربائن اور دیگر مشینری چاہیے اس کے لیے انہیں رقم آئندہ برس کے وسط میں ملے گی اور جب ٹینڈر ہوں گے اور مشینری نصب ہوگی اور بجلی کی پیداوار شروع ہوگی اس میں دو سے تین بر س لگ سکتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ تھر کول کی اپنے فیلڈ میں وہ مقامی افراد کو روزگار دینے کے بجائے پنجاب اور دیگر صوبوں سے ملازمین کیوں بھرتی کرتے ہیں تو انہوں نے جواب گول کردیا۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: