ایک نمازی۔۔۔

196 بار دیکھا گیا

اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔

آذان سنتے ہی میں نے فورا وضو کیا اور استری شدہ صاف ستھرے کپڑے پہنے، عطر لگایا اور آئینے میں اپنا جائزہ لیا۔۔۔ اچھا صاف ستھرا لگ رہا ہوں۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے مسجد کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔  دروازے  سے داخل ہو تے نظر دوڑائی، مسجد میں مجھ سے پہلے ہی کچھ نمازی موجود تھے۔۔۔  خیر اندر داخل ہوا اور تحیاۃ المسجد کے نفل پڑھے۔۔۔ سلام پھیر کر دیوار سے ٹیک لگا کر جماعت کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ اور ویسے ہی خالی دماغ ادھر ادھر نمازیوں کو دیکھتا رہا۔۔۔

ایک شخص، جو پہلے سے مسجد میں موجود تھا۔۔۔ اس پر نظر پڑی تو ناگواری کی کیفیت چھا گئی۔۔۔ اللہ۔۔۔ یہ کیا، اللہ کے گھر میں ہے اور اتنے گندے کپڑوں میں۔۔۔ یہ کیسا مسلمان ہے۔۔۔ جسے آداب تک نہیں آتے۔۔۔ “نیلا کوُر آل” پہنے، جس پر جگہ جگہ مٹی اور تیل کے نشان پکے ہو جکے تھے، وہ نمازی اپنی ٹانگوں میں سر گھسائے، کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔ میں نے غور کیا تو ہاتھ پاوں صاف تھے۔۔۔ داڑھی بڑھی ہوئی، شاید بہت دن سے اسے شیو کرنے کا وقت نہیں ملا تھا۔۔۔۔ معمولی شکل کا انسان جسے شاید “اللہ کے گھر” آنے کےآداب تک نہیں معلوم۔۔۔ ہونہہ۔۔۔

اقامت ہوئی۔۔۔ صفیں بندھنے لگیں۔۔۔ وہ شخص اتفاقا میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔۔۔ ہونہہِ، یہ کیا کہ اسے اتنے آداب نہیں کہ پاوں سے پاوں اور کندھے ہی ملا لے۔۔۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ پاوں ساتھ لگاو۔۔۔ اس نے میری ہدایت پر عمل کیا اور میرے اور قریب آ کر پاوں سے پاوں ملا کر تکبیر کا انتظار کرنے لگا۔۔۔

نماز ختم ہوئی اور تسبیح کےلیے میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔ میں نے غور کیا کہ وہ شخص اب بھی اپنی جگہ پر دو زانو بیٹھا ہے اور اس کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں اور وہ سرگوشی میں اللہ سے جانے کیا مانگ رہا ہے۔۔۔ میں اسے دیکھنے میں اتنا محو ہو گیا کہ تسبیح اور دعا سب بھول کر اس کا جائزہ لیتا رہا۔۔۔ دعا کے بعد وہ اٹھا تو اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔۔۔ ایسا سکون جو انمول ہے۔۔۔ اس کے گال جو اس کے آنسووں سے اب بھی تر تھے، کسی نور کی مانند جگمگا رہے تھے۔۔۔ وہ اٹھا اور کچھ ورد کرتا ہوا مسجد سے باہر نکل گیا۔۔۔

میں اپنے صاف ستھرے معطر کپڑوں ملبوس وہیں بیٹھا رہا اور اسے جاتے دیکھ کر اچانک اس پر رشک آگیا۔۔۔ اس کے پرسکون چہرے پر رشک آگیا۔۔۔ اس کے آنسووں پر رشک آ گیا۔۔۔ اس کی سادگی پر رشک آ گیا۔۔۔ اچانک مجھے اپنا آپ غلاظت سے بھرا ایک جانور سا محسوس ہونے لگا۔۔۔ مجھے لگا کہ میری ظاہری صفائی اور بناوٹ ہی میرے ایمان میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔۔۔ مجھے اپنا دکھاوا دنیا کی گھٹیا ترین شے محسوس ہوا۔۔۔ مجھے اپنے صاف کپڑوں سے گھن آنے لگی۔۔۔اور اس شخص کے گندے کپڑے اور اس کے ایمان کی سادگی مجھ خود سے بہت اونچی محسوس ہونے لگی۔۔۔ بلاوجہ اس کو نیچھ سمجھنے پر اب خود اپنا آپ اس سے بھی زیادہ نیچھ لگنے لگا۔۔۔ ایسا لگا، کہ مسجد میں میری شکل میں دنیا کا سب سے گناہگار اور غلیظ شخص بیٹھا ہے۔۔۔ جسے صرف اپنے دکھاوے سے پیار ہے۔۔۔ اپنے گناہوں کے باوجود مجھے اپنا آپ اور اپنے کپڑے ہی سب سے اچھے لگتے ہیں۔۔۔ مجھے ان گناہوں کا پچھتاوا ہی نہیں جو میں جانے اور انجانے میں کیے ہیں۔۔۔ مجھے صرف اس بات پر غرور ہے کہ میں صاف ستھرے کپڑے پہن کر مسجد آ گیا ہوں۔۔۔ لیکن اب نا چاہتے ہوئے بھی غرور جیسا گناہ کر بیٹھا ہوں۔۔۔ مجھے وہ شخص اس دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان محسوس ہوا۔۔۔جس کو اللہ تبارک تعالیٰ نے آنسو اور توبہ جیسے نعمت سے نوازا۔۔۔۔ اور شاید اس کی توبہ قبول کر کے اس کے چہرے کو نور سے منور کیا۔۔۔ اس شخص کے کپڑے گندے تھے لیکن اس کا باطن صاف تھا۔۔۔ اور میں۔۔۔!!! میرا دکھاوا صاف لیکن باطن غلاظت سے بھرا ہوا۔۔۔ میرے کپڑے، میرا علم میرے کام نا آیا۔۔۔ عمل میں وہ گندے کپڑوں والاشخص بازی لے گیا۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

22 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: