اک تڑپ میرے خون میں بھی ہے

158 بار دیکھا گیا

مائیک انگلستان سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ ہماری کمپنی کا ریجنل مینیجر ہے۔۔۔ اور کرکٹ سے خاص شغف رکھتا ہے۔۔۔

کچھ دین پہلے میں نے صبح صبح مائیک کو فون کیا اور بڑے جوش سے کہا۔۔۔

“Mike, did you see the match yesterday between England and Ireland… see how bad England played”

میری اس بات کا جواب مائیک نے کچھ لمحات کی خاموشی کے بعد یوں دیا:

“hmmmmm… what happened to Shahbaz Bhatti… I saw on the TV that some Islamists killed him for supporting blasphemy law”…

اب خاموش ہونے کی باری میری تھی۔۔۔ کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد میں نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے مائیک کو کہا۔۔۔

“Good one Mike… I’ll talk to you later…”

اب میں سوچ رہا ہوں کل مائیک صبح مجھے فون کرے گا اور طنزیہ انداز میں کہے گا۔۔۔

“how come you let that basturd go…, where is your national pride”…

اور میں حسب معمول سارا قصور حکمرانوں کے سر پر ڈال دوں گا۔۔۔ اپنی سیاستدانوں  کا رونا رووٰ ں گا۔۔۔ وہ خاموشی سے میری باتیں سنے گا۔۔۔ اور آخر میں کہے گا۔۔۔

“It doesn’t happen in UK, you know۔۔۔”

شام سے کئی بیان سن چکا ہوں پنجاب حکومت کے۔۔۔ کئی بہانے بتائے جا رہے ہیں۔۔۔ مقتولین کے خاندان نے پیسے لے لیے۔۔۔ “دیت” عین شرعی ہے۔۔۔ مقتولین کے اہل خانہ خاموش ہیں۔۔۔ ان کا بیان اب تک یہی سنا ہے کہ زبردستی دستخط لیے گئے۔۔۔ ریمنڈ ڈیوس امریکہ چلا بھی گیا۔۔۔ کس شان سے مقتل سے نکل کر اپنے آشیانے کی طرف کوچ بھی کر گیا۔۔۔ اکیس کروڑ قیمت بھی لگ گئی۔۔۔ اب کیا سچ اور کیا جھوٹ۔۔۔

مجھے تو بس ایک احساس ہو رہا ہے۔۔۔ احساس کمتری۔۔۔ کہ ہم کیسی کتی قوم ثابت ہوئے ہیں۔۔۔ ہم نے اپنے بھائی بھی بیچ دیے۔۔۔ اپنی بہنیں بھی۔۔۔ اور اب اپنی لاشیں بھی۔۔۔

ہم سے اچھا ایک قاتل ہی رہا۔۔۔ اس کی پوری قوم اس کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔۔۔ یہ دیکھے بغیر کہ وہ مجرم ہے۔۔۔ بس سب کہ یہ یاد رہا کہ وہ پہلے “امریکی” ہے۔۔۔ اور بعد میں قاتل۔۔۔ اور قاتل کو بھی کوئی قلق نہیں ہوگا کہ اس نے تین گھر اجاڑ دیے۔۔۔

ابھی ٹی وی چینل پر سنا کہ پی پی کا کوئی نمائندہ اس معاملے پر بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔۔۔ ہیلری کلنٹن صاحبہ نے نیا فرمان جاری کیا ہے کہ “دیت” کی رقم امریکہ کی جانب سے نہیں دی گئی۔۔۔ جنرل حمید گل صاحب کے مطابق آج کا دن سقوط ڈھاکہ جیسا غمناک اور ہولناک ہے۔۔۔ اور امریکیوں کو اتنی چھوٹ دینے کے بعد اب ان کی رسائی ہمارے ایٹمی اثاثوں پر آسان بنا دی گئی ہے۔۔۔

میرے دوست کا فون آیا۔۔۔ اور چھوٹئے ہی کہنے لگا۔۔۔ “دیکھ لیا اپنے پاکستان کا حال۔۔۔ یہ ہے تمہارا ایٹمی ملک۔۔۔ یہ ہے تمہاری طاقت۔۔۔ کس لیے بنائے اپنے ایٹمی ہتھیار۔۔۔ ہم پاکستانی نہیں۔۔۔ امریکہ کی ایک غلیظ کالونی ہیں۔۔۔ بھاڑ میں جائے ہمارے ایٹم بم اگر ہم نے ایسے ہی امریکیوں اور آئی ایم ایف کے آگے سر خم کرنا ہے۔۔۔ بڑا پاکستان پاکستان کرتا ہے تو۔۔۔ یہ ہے تیری اوقات”۔۔۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا کہنے کے لیے۔۔۔ صرف اتنا کہہ سکا۔۔۔ “صحیح کہہ رہا ہے بھائی تو”۔۔۔

یہ پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔ کیا بات کہہ دی ہے کسی منچلے “گمنام” شاعر نے۔۔۔

سر جلائیں گے روشنی ہوگی

اس اجالے میں فیصلے ہوں گے

روشنائی بھی خون کی ہو گی

اور وہ فاقہ کش قلم جس میں جتنی چیخوں کی داستانیں ہیں, ان کو لکھنے کی آرزو ہو گی

نہ ہی لمحہ قرار کا ہو گا، نہ ہی رستہ فرار کا ہو گا

وہ عدالت غریب کی ہو گی جان اٹکی یزید کی ہو گی

اور پھر اک فقیرکا بچہ مسندوں پر بٹھایا جائے گا

اور ترازو کےدونوں پلڑوں میں سرخ لمحوں کو تولا جائے گا

سابقہ حاکمین حاضر ھوں، نام اور ولد بولا جائے گا

جو یتیموں کی طرف اٹھے تھے ایسے ھاتھوں کو توڑ ڈالیں گے

اور جس نے روندی غریب کی عصمت اس کی گردن مروڑ ڈالیں گے

جس نے بیچی ہے قلم کی طاقت جس نے اپنا ضمیر بیچا ہے

جو دوکانیں سجائے بیٹھے ہیں

سچ سے دامن چھڑائے بیٹھے ہیں

جس نے بیچا عذاب بیچا ہے

مفلسوں کو سراب بیچا ہے

دین کو بے حساب بیچا ہے

کچھ نے روٹی کا خواب بیچا ہے

اور کیا کہوں قوم نے خود کو کس طرح باربار بیچا ہے

میں بھی پاکستانی ہوں

اک تڑپ میرے خون میں بھی ہے

آنکھ میں سلسلہ ہے خوابوں کا

اک مہک میرے چار سو بھی ہے

جونپڑی کے نصیب بدلیں گے پھر انقلاب آئےگا

بیٹھ رہنے سے کچھ نہیں ہو گا ایک دن انقلاب آئے گا

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

22 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: