عمرانیات » ان گنت سوالات

ان گنت سوالات

میرے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہے اب۔۔۔ بہت مایوس ہو چکا ہوں۔۔۔ کیا لکھوں۔۔۔ کیوں لکھوں۔۔۔؟ کس کے لیے لکھوں۔۔۔؟ میری قوم سو چکی۔۔۔ میری قوم کو میرے الفاظ کی ضرورت نہیں۔۔۔ وہ سن نہیں سکتی۔۔۔ اس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی۔۔۔

کیا میری قوم مر چکی۔۔۔؟ کیا واقعی میں مردہ قوم میں شامل ہوں۔۔۔؟ لیکن اگر قوم مردہ ہے تو برداشت کی حس کیوں نہیں ختم ہو رہی۔۔۔؟

کیا میرے الفاظ کسی کو تسلی دے سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا میرے الفاظ مجھے تسلی دے سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا میرے الفاظ میری سوئی ہوئی مردہ قوم کو تسلی دے سکتے ہیں۔۔۔؟

کیا میری سوچ کسی کی سوچ بدل سکتی ہے۔۔۔؟ کیا میری سوچ میری قوم کی سوچ بدل سکتی ہے۔۔۔؟ کیا میری قوم میری سوچ پر عمل کر سکتی ہے۔۔۔؟

کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم میں پھر روح پھونکی جائے گی۔۔۔؟ کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم پھر جاگ اٹھے گی۔۔۔؟ کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم سوچ سکے گی۔۔۔۔؟ کیا میری سوئی ہوئی مردہ قوم سمجھ سکے گی۔۔۔؟

کیا میرے الفاظ مجھے ہمت دے سکتے ہیں۔۔۔؟ کیا میرے الفاظ میری قوم کو ہمت دے سکتے ہیں۔۔۔؟

کتنے سوالات ہیں میرے پاس۔۔۔ اور میرے پاس لکھنے کو پھر بھی کچھ نہیں۔۔۔!!!



12 تبصرے برائے “ان گنت سوالات”

  1. 1جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    عمران بھائی!۔

    ہر بات یوں نہیں ہوتی جیسے بظاہر نظر اتی ہے۔ مایوس نہ ہوں۔ آپ بات کو زرا مثبت پہلو سے دیکھیں تو مایوسی کی بجائے آپ کو فخر کا احساس ہوگا۔

    قوم زندہ ہے۔ ہر قسم کے جوروستم کے باوجود اتنے بڑے بڑے سانحوں کے باوجود اگلے دن قوم ہر سانحے کو بھول کر نئے دن کا آگاذ کرنے کو تیار ہوتی ہے۔ اتنے بڑے بڑے حادثے میری قوم کو وہ اعصاب شکن مضبوطی اور توانائی عطا کر جاتے ہیں کہ کہ اس قوم کے رذیل ترین اور کمینگی کی آخری حدوں کو چھونے والے بے غیرت دشمن بھی محض اپنے زخم چاٹنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے ۔

    ہمیں ایک بات یاد رہے یہ اسطرح کے حادثات و آفات کے سامنے بڑی بڑی قومیں گھٹنے ٹیک جاتی ہیں اور محض معدودئے چند قومیں ایسی ہیں جو اس سے بھی بہت بڑے طوفانوں اور بحرانوں کے پیٹ سے زندہ سلامت برآمد ہوتی ہیں۔ اور ان قوموں میں سرفہرست پاکستانی قوم ہے۔ دشمن اپنا ہڑ حربہ آزما چکا مگر پاکستانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور نہیں کر سکا۔ ابھی تو اس قوم کے الحمداللہ کل اثاچے اور حوسلے پوری طرح محفوظ ہیں اور یہ کسی بھی کمینے دشمن جو کہ بدقسمتی سے ہماری قوم کے بہت سے دشمن ہیں انکے دانٹ کھٹے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

    اپنوں کی بے وقوفیوں اور حماقتوں اور اغیار کی مکاریوں اور چالبازیوں سے ہماری قوم کے بارے میں ناکام قوم ، مایوس قوم کا تاثر پھیلانے والے بغیر کسی بڑے معرکے کے محض پروپگنڈے کے زور پہ میدان مار لینا چاہتے ہیں۔ اور انشاءاللہ یوں ہوگا نہیں۔ اگر آخری قدم یعنی زندگی کی جنگ لڑنے پہ پاکستانی قوم کو مجبور کیا گیا تو بھی پاکستانی قوم اس جنگ سے سرخرو نکلے گی۔ اسلئیے نہ مایوں ہوں اور نہ ہی مایوسی کو ہوا دیں۔

    ہماری قوم کی ابھی عمر ہی کیا ہے؟ قومیں ہزاروں سالوں میں بنتی ہیں۔ ہماری قوم اور ملک ایک نوزائیدہ دودھ پیتے بچے کی مانند ہیں۔ جس نے ابھی آگے بڑھنا ہے اور پاؤں پاؤں چلتے ہوئے ترقی کے مدارج طے کرنے ہے۔

    ایک بات طے ہے کہ ان ہر قسم کے ابن الوقتوں نے فنا فی النار ہوجانا ہے اور پاکستان اور پاکستانی قوم تب بھی انشاءاللہ قائم ودوام ہوگی اور اپنے عوام کو ترقی اور فلاح کی بلندیوں سے روشناس کرے گی۔

  2. 2فکرپاکستان

    قوموں کی ترقی کا تعلق قوموں کی عمروں سے نہیں ہوتا، ایسے کئی ممالک ہیں جو پاکستان کے بعد آزاد ہوئے ہیں اور آج ہم انکی دھول کو بھی نہیں چھو سکتے، قوموں کی ترقی کا تعلق ایمانداری سے دیناداری سے، یکجحتی سے، بھائی چارگی سے، محنت مشقت سے، تعلیم سے، نیک نیتی سے، تحقیق سے، خلوص سے، شرافت سے، شرم سے، غیرت سے، حیاء سے، عزت سے، خودداری سے، یہ سب ہی وہ عوامل جنسے قومیں ترقی کرتی ہیں، ان میں سے ایک بھی چیز پاکستانی قوم کے پاس نہیں ہے، تو ایسے چونسٹھہ سال ہی کیا ایک ہزار جونسٹھہ سال بھی گزر جائیں تب بھی یہ قوم ترقی نہیں کرسکتی۔ پہلے ایک قوم تو بن جائے یہ باقی باتیں تو بہت دور کی ہیں، کوئی بنجابی ہے کوئی پٹھان ہے، کوئی سندھی ہے، کوئی بلوچی ہے، کوئی مہاجر ہے، کوئی سرائیکی ہے، کوئی میمن ہے، کوئی ہزارے وال ہے، کوئی پاکستانی بھی ہےِ؟ قومیتوں سے نکلو تو جانوروں سے بھی بد تر ملا حضرات استقبال کے لئیے کھڑے ہوتے ہیں، کے ہمارے پاس آو ہم تمہیں مسلمان سے، دیوبندی بناتے ہیں، بریلوی بناتے ہیں، اہل حدیث بناتے ہیں، شیعہ بناتے ہیں، کس کس کا رونا رو گے آپ عمران بھائی۔ یہ ایٹم بم کسی اور ملک پر تو چلانا نہیں ہے ہم نے تو بہتر یہ ہی ہے کے یہ ایٹم بم پاکستان پر ہی استعمال کرلیا جائے، تاکے ایک بار ہی ساری گند صاف کردی جائے۔

  3. 3ضیاء الحسن خان

    گوندل صاحب نے بلکل ٹھیک فرمایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو چلنا سیکھ رہے ہیں بھائی مگر افسوس صرف اس بات کا ہے کہ اس پاکستان کے والدین اسکی پیدائش کے چند سالوں میں ہی کوچ کر گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اب سوتیلے والدین اسکو چاہتے ہی نہیں ہیں کہ یہ اٹھے ۔۔۔۔۔ مگر ان شاءاللہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے لئے ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ مرض تو ھمکو پتہ ہے بس علاج ٹھیک کروانا ہے مکمل پرہیز کے ساتھ…

  4. 4افتخار اجمل بھوپال

    ميں آپ کی اس تحرير اور فکرِ پاکستان کے تبصرہ کا کچھ آج لکھ چکا ہوں کچھ اِن شاء اللہ آنے والے کل اور کچھ اُس ے اگلے روز لکھوں گا

  5. 5سعد

    میں جاوید گوندل صاحب سے متفق ہوں۔ اتنے عذابوں کے باوجود ملک قائم ہے۔ کچھ تو بات ہے نا اس میں!

  6. 6عمران اقبال

    فکر پاکستان بھائی۔۔۔ آپ کے خیال میں کیا ایمانداری، دنیاداری، یک جہتی سے، بھائی چارگی، محنت مشقت، تعلیم، نیک نیتی، تحقیق، خلوص، شرافت، شرم، غیرت، حیاء، عزت اور خودداری پاکستان یا پاکستانیوں میں ناپید ہو چکی ہے۔۔۔؟
    میں آج کی پاکستان عوام اور آج کی نسل سے مایوس ضرور ہوا ہوں۔۔۔ لیکن مستقبل مجھے بھی برا نہیں محسوس ہو رہا۔۔۔ آپ نے ایک ہزار چونسٹھ سال کی پیشن گوئی کر دی۔۔۔ کہ ہمارا کچھ نہیں بدلنے والا اور ہم ایسے ہی مرتے رہیں گے، ایسے ہی بےغیرت رہیں گے۔۔۔ یہ تو نا انصافی ہے۔۔۔
    میں نے کل آنے والی نسل سے امید نہیں چھوڑی۔۔۔ انشاءاللہ پاکستانی قوم پھر ابھرے گی۔۔۔ پھر سے ہماری قومی حمیت جاگے گی۔۔۔ ہم پھر سے اسلام کا قلعہ کہلائیں گے۔۔۔

    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔۔۔

  7. 7مسلمان

    ہمارے سا تھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اندر احساس ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم صرف اپنے مفاد کو سوچتے ہیں۔ہر بندہ نیک کام کا آغاز دوسروں سے شروع کرانا چاہتا ہے۔ اور اس وسوسے کی وجہ سے اچھے کام کو چھوڑ دیتا ہے کہ میرے ٹھیک ہونے سے کیا ہوگا، حالانکہ معاشرہ تو افراد کے مجموعہ کا نام ہے۔ ہر فرد اپنا فرض ادا کرنا شروع کردے تو سارا معاشرہ ٹھیک ہوجائے۔ورنہ کم از کم معاشرے سے ایک خراب فرد تو کم ہو جائے گا۔

    فکر پاکستان صاحب آپ نے فرمایا اس قوم کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کو بم مار کر ختم کردیاجائے۔ بہتر ۔جناب آپ اور آپکا خاندان بھی تو اسی پاکستانی قوم میں شامل ہے۔آپ اپنے خاندان سے اس کام کو سٹارٹ کریں۔ آپ کل ہی سارے خاندان کو دعوت پر بلائیں اور وہاں دھماکہ کردیں، کچھ تو ملک کو فاعدہ ہوگا۔ ورنہ اس مشورے کا کیا فاعدہ جسکو بندہ خود اپنے اوپر بھی اپلائی نہ کرسکے۔۔

  8. 8جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین

    قوموں کی ترقی کا تعلق قوموں کی عمروں سے نہیں ہوتا، فکر پاکستان

    ملک آزاد اور مقبوضہ ہوتے رہتے ہیں مگر تاریخی طور پہ قدیم قوموں کو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ مثلا اکثر لوگ چین کی آزادی کا حوالہ دیتے ہیں مگر یہ بان نہیں کرتے وہ کتنے ہزار سال پرانی قوم ہے۔

    کسی قوم کے قدیم ہونے سے اس قوم میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور انکی تاریخ انھیں رہنمائی مہاء کرتی ہے کہ وہ ماضی میں اس سے بھی بدتر حالات سے صحیح سلامت گزر چکے ہیں۔ مثلا ہسپانوی قوم اسپین میں مسلمانوں کے دور حکومت اور اپسین میں تب کے مسلم عوام اور مسلمان حکمرانوں کے نو سالہ کے لگ بھگ دور کو “مسلم ہسپانیہ” کا نام دیتے ہوئے اس دور کو بھی اپنا دور تسلیم کرتے ہیں۔ اسی طرح روسی، جاپانی ، یونانی۔ اسرائیلی، ایرانی، ترکی، برطانوی، عربی اور بہت سی اقوام کے احوال ہیں۔ جبکہ پاکستان کے ساتھ یہ صورتحال یکسر مختلف ہے۔ پاکستان بننے سے سے صرف سات سال پہلت تک دنیا میں کسی نے نہ پاکستانی قوم کا نام سنا سوچا یا تصور کیا تھا نہ پاکستان کا۔ اگر چند سال پہلے پاکستان نام کے ایک ملک کے لئیے ہندوستان کے کچھ خطوں کا زکر ملتا ہے تو غالبا کچھ سال پہلے چوہدری رحمت مرحوم کے ہاں اور کچھ طلباء کے ہاں ملتا ہے۔ یعنی نہ ماضی میں کبھی پاکستانی قوم اپنی موجودہ ھئیت میں اور نہ ہی پاکستان نام کا ملک اپنی موجودہ سرحدوں میں کبھی ہو گزار ہے۔اور جو قومیں ہزاروں سال سے ہیں اور جسقدر قدیم ہیں اسی قدر اپنے بارے میں پراعتماد ہیں۔جبکہ پاکستان کے ساتھ ہوں معاملہ نہیں ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے کہ اگر اوبامہ کو اچانک پاکستان کے نام پہ چھینک بھی آجائے تو ہمارا سارا نظام ، میڈیا اور دنشوار واویلا اور دہائی مچانا شروع کر دیتے ہیں۔

  9. 9فکرپاکستان

    آپ سب کا میرے تبصرے پر تبصرہ کرنے کا بہت بہت شکریہ، عمران بھائی میں نے ایک ہزار چونسٹھہ سال اس صورت میں کہیے ہیں کے اگر اس قوم میں یہ سب تبدیلیاں نہ آئیں تو جو تبدیلیاں میں نے بیان کی ہیں۔ کیا آپکو لگتا ہے کہ پاکستان کے ان اٹھارہ کروڑ سروں کے ہجوم میں کوئی خود کو بدلنا چاہتا ہے؟ کوئی قومیت سے نکل کر صرف پاکستانی بننا چاہتا ہے ؟ کوئی مسلکوں اور فرقوں سے نکل کر صرف مسلمان بننا چاہتا ہے؟ جب تک یہ سوچ پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک تبدیلی ناممکن ہے۔ اور مجھے تو یہ سوچ دور دور تک پیدا ہوتی نظر نہیں آرہی اگر کسی کو آرہی ہے تو مثال سے ثابت کرے۔

  10. 10عمران اقبال

    میں فکر پاکستان بھائی کے تبصرے سے اس حد تک متفق ہوں کہ آج ہم میں صوبائی تعصب، قومیت، لسانی فرقہ واریت اور مسلکی مسائل اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ یہ ہمیں ایک قوم بننے سے روک رہے ہیں… اور ان مسائل کا تدراک جتنی جلدی اور جیسے بھی ہو جائے… اتنا ہی اچھا ہے… یہ نا ہو کہ ہم اپنی اگلی نسل میں بھی ان زہروں کا اثر چھوڑ دیں اور ہماری اگلی نسل بھی ہماری طرح صرف کنفیوز ہی رہ جائے…

    کیا ایسا کوئی طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم صوبائی تعصب کا قلعہ قمع کر سکیں…؟؟؟
    کیا ایسا کوئی طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم ذات پات پر نا لڑیں…؟؟؟
    کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ سب مسالک کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر امن سے رہیں…؟؟؟
    اور کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ پنجابی، پٹھان، سندھی اور بلوچی زبان کی سرحدوں کو توڑ کر ایک ہو جائیں…؟؟؟

    کسی کے پاس کوئی طریقہ ہو تو ضرور بتائیں… خود کی حد تک کیا ہم ان طریقوں کو لاگو نہیں کر سکتے… کیا معاشرے میں لاگو نہیں کر سکتے…؟؟؟

    وہی بات ان گنت سوالات… لیکن جواب…!!! نہیں ہیں میرے پاس… کیا کسی اور کے پاس ان سوالات کا جواب ہے…؟

  11. 11فکرپاکستان

    http://fikrepakistan.wordpress.com/2011/02/11/بلاعنوان عمران بھائی آپ نے مسلوں کے حل پوچھے ہیں تو مسلک پرستی اور فرقہ بندی سے نکلنے کے لئیے میں نے ایک پوسٹ پچھلے دنوں اپنے بلاگ پر لکھی تھی آپ غیر جانبدار ہوکر اسے پڑھئیے انشاءاللہ آپکو اس مسلے کا حل مل جائے گا۔ قوم پرستی سے نکلنے کے لئیے صوبوں کو ختم کر کے ون یونٹ کردیا جائے تو اس سے بھی بہت حد تک صوبائی تعصب ختم کیا جاسکتا ہے اور بہت سارے فضول کے اخراجات سے جان چھوٹ سکتی ہے قوم کی۔ ایسا کوئی مسلہ نہیں جسکا حل نہ ہو، مگر ہمارا المیہ یہ ہے کے ہم خود کو بدلنا ہی نہیں چاہتے۔

  12. 12عمران اقبال

    آپ سب کے تبصروں کا بہت شکریہ…

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔