اصل جہاد کیا ہے؟

169 بار دیکھا گیا

“جہاد” ایک ایسا لفظ بن چکا ہے جس کی نا صرف روح بدلی جا چکی ہے بلکہ جسمانی ساخت بھی اب آخری سانسیں لے رہی ہے۔۔۔ جیسا کہ ہم ہر معاملے میں قصور بیرونی طاقتوں کا ٹھراتے ہیں، ویسے ہی جہاد کے بارے میں منفی پراپگینڈہ بھی اسی کے زمن میں ڈالنا بہترہے۔۔۔ لیکن، بطور مسلمان ہم نے جہاد کو کیا اور کہاں تک سمجھا ہے؟ جہاد ہمارے لیے فرض ہے یا کہ واجب؟ جہاد کا اصل مطلب کیا ہے؟ جہاد کب اور کیسے فرض ہوتا ہے؟ ان سب سوالوں کے جوابات ہمارے بہت سے مختلف طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے علماٰء مختلف طریقوں سے دیں گے۔۔۔ اب حقیقت کیا ہے۔۔۔ دنیا میں “جہاد” کا اتنا برا خاکہ کیوں بن رہا ہے۔۔۔ اس کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں “جہاد” کی اصلی روح کو دیکھنا ہوگا۔۔۔

شہادت کے بارے میں میری تحریر کے بعد میں نے سوچا کہ شہادت کا مضمون “جہاد” کی اصل تعریف کے بغیر نا مکمل ہے اور پھر امتیاز بھائی نے بھی اپنے تبصرے میں یہ مشورہ دیا کہ جہاد کے بارے میں بھی کچھ لکھوں۔۔۔ میں نے قرآن اور احادیث سے کچھ مواد اکٹھا کیا ہے جو قسط وار آپ تک پہنچا سکوں گا۔۔۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرے لیے دعا کیجیے کہ اللہ مجھے آپ تک صحیح اور بہترین معلومات پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

پہلی قسط

جہاد کے لفظی معنی:
جہاد سے مراد کسی نیک کام میں انتہائی طاقت و کوشش صرف کرنا اور ہر قسم کی تکلیف اور مشقت برداشت کرنا ہے۔

جہاد کی اقسام:
1) کفار اور محاربین (وہ منظم و مسلح جتھہ جو اسلام اور مسلمانوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے لیے خطرہ بن جائے) جہاد کرنا۔ اور یہ ہاتھ، مال، زبان اور دل کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

“مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو” (مسند احمد، سنن ابی داود ، سنن نسائی اور اسناد صحیح)

2) اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے نافرمانوں سے جہاد کرنا اور یہ بھی ہاتھ، زبان اور دل سے ہوتا ہے۔۔۔ چنانچہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

تم میں سے جو کوئی برا کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلے، اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے بدلے اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں تو دل سے ہی برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے (صحیح مسلم)

3) شیطان سے جہاد کرنا۔۔۔ یعنی انسان اس کے ڈالے ہوئے شبہات و وسواس کو اپنے دل سے نکال دے اور اس کے مزین کردہ شہوات کو ترک کر دے۔۔۔ اس لیے کہ آللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

اور شیطان اللہ کے بارے میں تمہیں ہر گز دھوکا نہ دے سکے ( سورۃ لقمان آیت نمبر 33)
مزید فرمایا:
شیطان تمہارا دشمن ہےِ سو تم اسے اپنا دشمن سمجھو ( سورۃ فاطر آیت نمبر 6)

4) نفس سے جہادکرنا۔۔۔ یعنی انسان اپنے نفس کو دینی امور کی تعلیم کی طرف مائل کرے اور ان پر عمل کے لیے اسے آمادہ کرے، نفسانی خواہشات سے دور رہنے اور نفس کی رعونتوں سے بچنے کی سعی کرے۔۔۔ اور یہ جہاد کی انواع میں سب سے بڑا جہاد ہے یہاں تک کہ اسے جہاد اکبر کا نام بھی دیا جاتا ہے۔۔۔

قسط دوم میں مزید پڑھیے: جہاد کی فضیلت اور حکمت کے بارے میں

والسلام، دعاوں کا طلبگار۔۔۔ عمران اقبال

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

6 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: