اصل جہاد کیا ہے؟ حصہ دوم

31 بار دیکھا گیا

گزشتہ سے پیوستہ

جہاد کی حکمت اور فضیلت کے بارے میں میری اپنی رائے مندرجہ ذیل آیات اور احادیث کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔۔۔ میں جتنا بھی آسان اردو میں بیان کر دوں تو بھی ان سے زیادہ آسان اور معنی خیز نہیں بنا سکتا۔۔۔ میری گزارش ہے کہ لکھی گئی ہر آیت اور حدیث کو بغور پڑھیں۔۔۔ اور ان کی لفظی معنی سے زیادہ جملے کی روح پر غور کریں۔۔۔ ہر حکمت خود بخود آپکے سامنے آشکار ہو جائے گی۔۔۔

جہاد کی حکمت:

مخصوص جہاد یعنی کفار اور محاربین کے ساتھ جنگ فرض کفایہ ہے۔۔۔ اگر کچھ لوگ یہ فریضہ سر انجام دے رہے ہوں تو باقی لوگوں سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے۔۔۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

“اور یہ مناسب نہیں کہ سارے مسلمان نکل پڑیں، پس ایسا کیوں نہ کیا کہ ہر قوم میں سے چند آدمی نکلیں تا کہ دین کی سمجھ حاصل کر سکیں اور جب اپنی قوم میں آئیں تو ان کو ڈرائیں تا کہ وہ (برے کاموں سے) بچ سکیں۔” (سورۃ توبہ آیت نمبر 122)

البتہ خلیفہ وقت یا حکمران جن افراد کو متعین کر کے جہاد کا حکم دے، ان کے حق میں جہاد فرض عین ہے۔۔۔  جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا کہا جائے تو نکلو۔” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

جہاد کی فضیلت:

جہاد اور اللہ کی راہ میں شہادت کے فضائل میں بہت سی آیات صادقہ اور احادیث صحیحہ وارد ہیں۔۔۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد اللہ جل جلالہ کا تقرب حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور افضل عبادت ہے۔۔  چند ایک بطور نمونہ پیش خدمت ہیں:

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

“اللہ نے جنت کے بدلے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ اللہ کا یہ سچا وعدہ تورات، انجیل اور قرآن میں ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے؟ سو تم اس اپنی بیع(تجارت) پر جو تم نے کی ہے، خوش ہو جاو ، یہ بڑی کامیابی ہے۔” (سورۃ توبہ آیت نمبر 111)

اور فرمایا:

“اے ایمان والو! کیا تمہیں ایک تجارت کی نشاندہی کروں؟ جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے گی (وہ یہ کہ) تم اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاو اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو، اگر تم جانتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہترہے۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور ہمیشگی کا باغوں میں اچھی رہائش دے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے” (سورۃ الصف آیت نمبر 10تا 12)

اور فرمایا؛

“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں مردے نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی دیے جاتے ہیں۔۔۔ اللہ نے انہیں جو اپنا فضل دیا ہے، وہ اس پر خوش ہیں” (سورۃ آل عمران آیت نمبر 169/170)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ (دن کو) روزہ رکھنے والا اور (رات کو) قیام کرنے والا اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کی راہ میں جہاد کر رہا ہے۔ مجاہد فی سبیل اللہ، اللہ کی کفالت میں ہے کہ اگر اسے فوت (یا شہید) کرے گا تو اسے بہشت میں داخل کرے گا، سلامتی، ثواب اور غنیمت کے ساتھ (واپس گھر کے طرف) لوٹا دے گا۔۔۔ (سنن ابن ماجہ)

مزید فرمایا:

بہشت میں داخل ہونے والے کو زمین پر جو کچھ ہے اگر دے دیا جائے تو پھر بھی وہ واپس دنیا میں آنا نہیں چاہے گا، سوائے شہید کے کہ وہ اس اعزاز کی بنا پر جو اسے ملا، تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور دس بار قتل ہو جائے”
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

قسط سوم میں مزید پڑھیے: ارکان جہاد اور جہاد کے آداب

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

2 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: