احساسات

164 بار دیکھا گیا

منظر جیسے بھی ہوں، اپنے اندر ایک احساس رکھتے ہیں۔۔۔ نگاہ جس پر پڑے ایک نیا  اثر،  بینائی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔۔۔ ماحول اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ خوشگوار احساسات، اداس سائے، خوش گمانیاں، آس، بے یقینی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور۔۔۔ انہی جیسے احساسات پر مبنی شب و روز ہیں، جو گویا گزرے ہی چلے جا رہے ہیں۔۔۔ ہر پل ایک نیا احساس دل ودماغ کو ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔۔۔

مگر جو پل بیت جاتے ہیں ، وہ بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔ کم از کم کچھ ہونے کا احساس تو دلاتے ہیں۔۔۔ کوئی خوشی ہو یا کیسا بھی غم ہو۔۔۔ انسان اس کو جھیل ہی لیتا ہے۔۔۔ مگر جو وقت آنے والا ہے، اس کے انتظا ر کے کیا ہی کہنے۔۔۔!!!

اس پر مزید یہ کہ انسان سداکا خوش گمان ٹھرا۔۔۔ کتنی ہی بے یقینی کیوں نا ہو۔۔۔ ایک بجھتا دیا اپنے لرزتے ہاتھوں کے حصار میں لیے رہتا ہے۔۔۔ ناجانے کب اس کی لو جان پکڑ لے۔۔۔ یا اس دیے کے کشکول میں کچھ تیل بھیک میں مل جائے ، جو اس کو کچھ اور پل ، کچھ اور گھڑیاں جلائے رکھے۔۔۔

دیے کا تو کام ہی ہے جلنا، اور آخر ایک دن خاک ہو جانا۔۔۔ مگر ان لرزتے ہاتھوں کا کیا جو اس کو زندگی دینے کی کوشش میں خود کو تنگ اور پریشان کرتے رہے، کہ کاش کوئی آس ، کوئی امید اس دیے کی لو کو کچھ سمے جلتا رکھے۔۔۔

صبح کا منظر کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔۔۔ ہر نئی صبح ، سنا ہے ایک نیا پیغام لاتی ہے۔۔ مگر جس طرح اس صبح کا بھی زوال ہے، اسی طرح۔۔۔ زوال کو بھی کسی نئے عروج کی کوکھ سے جنم لینا ہے۔۔۔ اب اس جنم لینے میں جتنی اذیت ہو، وہ تو اس ماحول کا مقدر ٹھرا۔۔۔

اسی عروج و زوال میں بیت رہی ہے زندگی میری۔۔۔

اس پوسٹ کے بارے میں اپنے احساسات ہم تک پہنچائیں یہاں تبصرہ کریں

تبصرے بذیعہ فیس بک۔۔۔۔

2 تبصرے

تبصرہ کرتے وقت مت بھولئے کہ آپ بہت اچھے/اچھی/درمیانےقسم کے اچھے/ ہیں

error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔
%d bloggers like this: