عمرانیات » احساسات

احساسات

جمعہ, 4 نومبر 2011, 0:02 | زمرہ: میری ڈائیری, میری سوچ, میری محبّت
ٹیگز:

منظر جیسے بھی ہوں، اپنے اندر ایک احساس رکھتے ہیں۔۔۔ نگاہ جس پر پڑے ایک نیا  اثر،  بینائی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔۔۔ ماحول اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ خوشگوار احساسات، اداس سائے، خوش گمانیاں، آس، بے یقینی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور۔۔۔ انہی جیسے احساسات پر مبنی شب و روز ہیں، جو گویا گزرے ہی چلے جا رہے ہیں۔۔۔ ہر پل ایک نیا احساس دل ودماغ کو ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔۔۔

مگر جو پل بیت جاتے ہیں ، وہ بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔ کم از کم کچھ ہونے کا احساس تو دلاتے ہیں۔۔۔ کوئی خوشی ہو یا کیسا بھی غم ہو۔۔۔ انسان اس کو جھیل ہی لیتا ہے۔۔۔ مگر جو وقت آنے والا ہے، اس کے انتظا ر کے کیا ہی کہنے۔۔۔!!!

اس پر مزید یہ کہ انسان سداکا خوش گمان ٹھرا۔۔۔ کتنی ہی بے یقینی کیوں نا ہو۔۔۔ ایک بجھتا دیا اپنے لرزتے ہاتھوں کے حصار میں لیے رہتا ہے۔۔۔ ناجانے کب اس کی لو جان پکڑ لے۔۔۔ یا اس دیے کے کشکول میں کچھ تیل بھیک میں مل جائے ، جو اس کو کچھ اور پل ، کچھ اور گھڑیاں جلائے رکھے۔۔۔

دیے کا تو کام ہی ہے جلنا، اور آخر ایک دن خاک ہو جانا۔۔۔ مگر ان لرزتے ہاتھوں کا کیا جو اس کو زندگی دینے کی کوشش میں خود کو تنگ اور پریشان کرتے رہے، کہ کاش کوئی آس ، کوئی امید اس دیے کی لو کو کچھ سمے جلتا رکھے۔۔۔

صبح کا منظر کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔۔۔ ہر نئی صبح ، سنا ہے ایک نیا پیغام لاتی ہے۔۔ مگر جس طرح اس صبح کا بھی زوال ہے، اسی طرح۔۔۔ زوال کو بھی کسی نئے عروج کی کوکھ سے جنم لینا ہے۔۔۔ اب اس جنم لینے میں جتنی اذیت ہو، وہ تو اس ماحول کا مقدر ٹھرا۔۔۔

اسی عروج و زوال میں بیت رہی ہے زندگی میری۔۔۔



2 تبصرے برائے “احساسات”

  1. 1ا ل م

    یادیں، ماضی کی کچھ یادگار یا تلخ یادیں، جو ہمارے دل کے ہر وسیع حصے پر اپنا قبضہ کر لیتی ہیں۔ چاہیں یا نا چاہیں، پیچھا نہیں چھوڑتی اور کچھ لوگ تو پیچھا چھڑوانا بھی نہیں چاہتے۔
    امید، اچھے مستقبل کی امید، پرسکون لمحات کی امید اور پیار بھرے دل کے لیے اپنے محبوب کی ہمیشہ رہنے والی یاد کی امید۔
    اک پیاس، جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ جس کی تشنگی کوئی نہیں بجھا سکتا۔ (محبت کی پیاس، آرزو ، انتظار اور یقین)
    محبت میں عروج و زوال نہیں ہوتا۔ محبت تو ایک لافانی جذبہ ہے، ہمیشہ رہنے والا، ہمیشہ پھلنے پھولنے والا۔

ٹریک بیکس

  1. 1. ا ل م
  2. 2. احساسات | Tea Break

تبصرہ کیجیے

 
error: خدا کا خوف کھاو بھائی، کیا کرنا ہے کاپی کر کے۔۔۔