بلوچ، فوج اور غدار
یار یہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟
کیوں کیا ہوا۔۔۔؟
یار سنا ہے کہ وہاں بڑا ظلم ہو رہا ہے۔۔۔ کون کر رہا ہے یہ ظلم۔۔۔؟
کونسا ظلم ہو رہا ہے میرے بھائی۔۔۔ سب ٹھیک ہے وہاں۔۔۔
اچھا۔۔۔ یار اخبار میں آجکل بہت چھپ رہا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی بندے غائب کر رہی ہے۔۔۔ تشدد کرکے کسی اجاڑ میں لاش پھینک دیتی ہے۔۔۔ اور حد تو یہ کہ لاشیں مسخ بھی کر دیتی ہے۔۔۔
تمہیں کس نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی اس میں ملوث ہے۔۔۔ ؟
یار ہر بندہ یہی کہہ رہا ہے ۔۔۔
نہیں بھائی۔۔ بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔۔۔ اگر بھارت، اسرائیل اور امریکہ بلوچستان میں ہاتھ نا ڈالیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ فوج تو عوام کی حفاظت کر رہی ہے۔۔۔ یہ ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن ہو۔۔۔ اس لیے ان کے ایجنٹ قتل و غارت اور دہشت گردی کر رہے ہیں ۔۔۔
تو پھر ان دشمن ممالک کی دہشت گردی اورغیر قانونی مداخلت روکنے کے لیے ہماری فوج اور حکومت کیا کر رہی ہے۔۔۔
یار۔۔۔ بہت سے دہشت گرد پکڑے ہیں فوج نے۔۔۔ ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔
ہممم۔۔۔ تو یہ سارے دہشت گرد جو پکڑے گئے ہیں۔۔۔ وہ بھارئی، اسرائیلی اور امریکی قومیت رکھتے ہیں۔۔۔۔!!!
نہیں یار۔۔۔ وہ بلوچی ہی ہیں۔۔۔ جو ان ممالک سے پیسے لے کر ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔۔۔ قتل کرتے ہیں۔۔۔ اور نیا بلوچی ملک بنانے کے لیے ان ممالک سے پیسہ لیتے ہیں۔۔۔
تو کیا آج تک کوئی ثبوت ملا ۔۔۔ کسی سے کوئی غیر قانونی کرنسی ملی، کوئی نقشے ، کوئی اسلحہ۔۔۔؟
ہاں ملا نا۔۔۔ کئی بار ملا۔۔۔
تو کیا جتنے بندے پکڑے ہیں فوج نے وہ سارے کے سارے دہشت گرد ہیں۔۔۔؟
یار سارے نا بھی ہوئے تو کچھ تو ہونگے ہی نا۔۔۔
تو وہ جو پکڑے گئے اور تشدد کر کے مار دیے گئے۔۔۔ وہ دہشت گرد نا ہوئے تو۔۔۔؟؟؟؟ ان کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے باپ کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے بیٹوں کا کیا قصور ہوا۔۔۔ان کے خاندان کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ؟ کیا اب وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے۔۔۔ اور کیا ان کی آواز کو دہشت گردی سمجھ کر پھر سے نہیں دبا دیا جائے گا۔۔۔ کیا ایک معصوم اور مظلوم شخص کا بیٹا اس ظلم کا بدلہ لینے نہیں اٹھے گا۔۔۔ اور کیا وہ دہشت گرد نہیں بن جائے گا۔۔۔؟؟؟
یار فوج تو اپنی ہے۔۔۔ جو کر رہی ہے ملک کی بہتری کے لیے کر رہی ہے۔۔۔ اب غلطیاں تو سب سے ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔
لیکن کیا یہ غلطیاں اتنی بھیانک نہیں۔۔۔ جو نفرتیں پھیلا رہی ہیں۔۔۔ جو قاتل کا ساتھ دے رہی ہیں۔۔۔ یہی تو ہمارے دشمن ممالک چاہتے ہیں۔۔۔ کیا اب ہماری عوام ہماری فوج پر بھروسہ کر سکتی ہے۔۔۔ اس فوج کا ساتھ دے سکتی ہے جو اپنی ہی عوام کے قتلِ عام میں ملوث ہے۔۔۔ وہ لوگ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے الزام میں دھر لیے جاتے ہیں۔۔۔ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔۔۔ حق آواز بلند کرنے کی پاداش میں تشدد سہتے ہیں۔۔۔ لیکن جھکتے نہیں اور قتل کر دیے جاتے ہیں۔۔۔ کیا ان کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ نا انصافی کی داستانیں دنیا تک پہنچا سکیں۔۔۔ اور اپنی حکومت اور فوج کی بےمروتی اور بے وفائی دیکھتے ہوئے، مایوس ہو کر اپنے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کر سکیں۔۔۔ کیا یہ بھی غلط ہے۔۔۔؟
یار تم تو غداروں والی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کو الگ کر دیں۔۔۔ وہ ہمارا صوبہ ہے۔۔۔ ہمیں محبت ہے اس صوبے سے۔۔۔
اچھا۔۔۔ میں غدار ہی ٹھرا۔۔۔ مارتے رہو معصوموں کو۔۔۔ بناتے رہو مزید دہشت گرد۔۔۔ لیتے رہو بد دعائیں۔۔۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔۔۔
ٹیگو ٹیگی۔۔۔!!! I Tag You…
یہ ٹیگو ٹیگی کیا ہے۔۔۔ یہ ٹیگو ٹیگی۔۔۔؟؟؟
ٹیگو ٹیگی کا مطلب۔۔۔!!!!… I Tag You…
رہنے دیں جی ساہنوں کی۔۔۔
ہمیں تو جی حکم ملا کہ ایک عدد ٹیگ کا جواب دیں اور سلسلہِ ٹیگ جاری رکھیں۔۔۔ تو بسم اللہ کرتا ہوں۔۔۔
سوال نمبر 1 : 2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
جواب: انشاءاللہ۔۔۔ اگر اللہ تبارک تعالیٰ نے چاہا تو والدہ کو عمرہ کرواوں گا۔۔۔ والدہ چونکہ بیمار ہیں تو انکی تمام عبادات وہیل چئیر پر ہونگی۔۔۔ یوں تو کچھ بھی کر لوں ان کی محبت اور خدمت کا صلہ نہیں اتار سکتا۔۔۔ لیکن اپنے تئیں کوشش ضرور کروں گا کہ اپنی ماں کی ہر عبادت میں ان کا ہاتھ تھام سکوں اور اپنے والدین کی حتی الوسع خدمت کر سکوں ۔۔۔۔
سوال نمبر 2 : ۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
جواب:
۔۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ دیار غیر میں مسلمان اپنا مقام پیدا کریں۔۔۔ ناصرف دیار غیر میں۔۔۔ بلکہ اپنے اپنے ممالک میں بھی۔۔۔ اور ایک قوم بن کر ابھریں۔۔۔ آمین۔۔۔
۔۔۔ پاکستان کرکٹ ٹیم، ٹیسٹ اور ون ڈے میں کم از ٹاپ تین میں ہی آ جائے۔۔۔ اور کھلاڑیوں کی رینکنگ میں ٹاپ ٖپانچ میں کم از کم چار پاکستانی بیٹسمین اور بالرتو ہوں ہی۔۔۔ جانتا ہوں کہ یہ کچھ ناممکن لگتا ہے۔۔۔ لیکن انتظار میں کیا جاتا ہے۔۔۔
سوال نمبر 3: سال 2011 کی کوئی کامیابی؟
جواب: جی ہاں۔۔۔ صرف سال 2011 کی ہی نہیں بلکہ عمر بھر کی سب سے بڑی کامیابی، بیت اللہ اور بیت الرسول کی زیارت کرنا ہے۔۔۔
سوال نمبر 4 ؛ سال 2011 کی کوئی ناکامی؟
جواب : ناکامی تو نہیں، نقصان ضرور کہوں گا۔۔۔ اپنے دوسری اولاد کو پانے سے پہلے ہی کھو دینا، سال کا سب سے بڑا نقصان رہا۔۔۔ (ویسے تو یہ بات یہاں لکھنی نہیں چاہیے تھی۔۔۔ لیکن پتا نہیں کیوں لکھ رہا ہوں)۔۔۔ اس کے علاوہ۔۔۔ اللہ کا بڑا کرم رہا کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے۔۔۔ ماشاءاللہ۔۔۔
سوال نمبر 5 : سال 2011 کی کوئی ایسی بات جو بہت یادگار یا دلچسپ ہو؟
جواب: اس سال اپنے دو گہرے دوستوں کے ساتھ بہترین وقت گزارنے کو ملا۔۔۔ عظیم سے عمرے کے دوران سعودی عرب میں ملاقات ہوئی اور مدینہ منورہ میں حاضری کا شرف عظیم کے ساتھ ہی ملا۔۔۔ جبکہ برہان امریکہ سے کچھ عرصے کے لیے امارات آیا۔۔۔ چونکہ ہم دونوں ایک ہی کمپنی کی مختلف شاخوں میں کام کرتے ہیں۔۔۔ تو تقریبا ڈیڑھ ماہ ہم دونوں نے دبئی کی شاخ میں ایک ساتھ کام کیا اور بہترین وقت گزارا۔۔۔
سوال نمبر 6 : سال کے شروع میں کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
جواب: اپنی پرانی نوکری سے استعفیٰ دے دیا ہے اور انشاءاللہ تعالیٰ یکم فروری سے دوسری کمپنی میں کام شروع کر دوں گا۔۔۔ ایکسائیٹڈ ہوں۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے رحمت و برکت کی دعا ہے۔۔۔
سوال نمبر 7 : کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
جواب: فوٹو گرافی کا بہت شوق ہے۔۔۔ بیگم نے پچھلے سال کے آخر میں نیا کیمرہ تحفے میں دیا۔۔۔ کیمرے کا استعمال سیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔
مزید اور زیادہ اہم یہ کہ اللہ کی راہ میں استقامت سیکھنا اور پانا چاہتا ہوں۔۔۔
امید ہے کہ اپنے سارے جوابات تسلی بخش طور پر دیے ہیں۔۔۔ اب ٹیگ کرنے کی باری۔۔۔ زیادہ تر بلاگر دوست تو ویسے ہی ٹیگ ہو چکے ہیں۔۔۔ لیکن میں اپنے کچھ دوست بلاگرز کو دوبارہ ٹیگ کر دیتا ہوں۔۔۔ ہمارا کیا جاتا ہے۔۔۔
ڈاکٹر جواد خان انکل ٹام افتخار اجمل بھوپال محمد سلیم آپا شاہدہ اکرام
عمران خان، تحریک انصاف۔۔۔ امید سحر کی بات سنو۔۔۔
عمران خان کے بارے میں مزید کچھ کہنا سورج کو چاند دکھانے کے مترادف ہے۔۔۔ انہیں نا صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں کرکٹ اور انسانیت کی خدمت کرنے والے ایک عظیم شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔۔۔
ان کے بارے میں یہ چھوٹی سی ڈوکومینٹری دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ کیا عمران خان کو اب حکمرانی کا ایک موقع نہیں ملنا چاہیے۔۔۔؟ کیا اب بھی انہیں دوسری کرپٹ جماعتوں سے کم ووٹ دینے چاہیے۔۔۔؟ اور کیا باقی سیاسی جماعتوں کے رہنما اب تک اتنا بھی کر سکیں ہیں جو تھوڑے سے عرصے میں عمران خان نے پاکستان اور عوام کے لیے کیا ہے۔۔۔
کچھ دن پہلے ایک تحریر نظر سے گزری۔۔۔ جو سعید مزاری صاحب نے عمران خان کی کامیابیوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھی۔۔۔ وہ بھی پیش حاضر ہے۔۔۔
“کچھ لوگ زمین پر اہل زمین کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلائی اور خیرخواہی کیلئے بھیجے جاتے ہیں ،وہ کوئی نبی یا اولیائ اللہ تو نہیں ہوتے لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے دلوں میں مخلوقِ خدا کی خدمت اور ان کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ بدرجہ اتہم موجود ہوتا ہے ایسے لوگ زندگی کے کسی شعبے میں ہوں اور جس مقام پر ہوں ان کا دل ہمیشہ عوام کے ساتھ ہی دھڑک رہا ہوتا ہے۔اپنے ملک وقوم کی عزت وآبرو کیساتھ ساتھ غریب اور مظلوم لوگوں کا احساس انہیں ہروقت ہر میدان اور ہر مقام پر بے چین رکھتا ہے۔،یہ لوگ کھیل کے میدان میں ہوں تو ان کی نظر میں ملک و قوم کی عزت و وقار دنیا کی ہر نعمت سے معتبر ہوتا ہے اور اگر یہ سیاست کے پر خار راستوں پرمحو ِسفرہوںتو ان کے خیالات کا محور وہ مظلوم لوگ ہوتے ہیں جو جاگیرداروں ،وڈیروں، چوہدریوں اور مَلکوںکے جبر واستبدال کے آگے مجبور و محکوم دکھائی دیتے ہیں۔اللہ کے یہ بندے ہر لمحہ عوام کو انصاف کی فراہمی،اوران کی محرومیوں کے ازالہ کیلئے پریشان رہتے ہیں۔
ایسا ہی ایک باہمت اور پر عزم نوجوان 1971 ئ میں دنیابھر میں اپنے وطن عزیز اور قوم کا نام روشن و بلند تر کرنے کیلئے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوا ،اس نوجوان کے جوش و جذبے اور ملک وقوم سے بے انتہا عقیدت نے بہت جلد اسے ایک قومی ہیرو بنا دیا،1982 ئ میں اس کو قومی ٹیم کی کپتانی سونپ دی گئی کپتانی کے پہلے ہی سال اس نوجوان نے اپنے آپ کو ایک بہترین کھاڑی ثابت کر دیا سری لنکاکے خلاف ٹیسٹ سیریزمیںصرف 58 سکور دیکر 8 شاندار وکٹیں لیکر پوری دنیا کو حیران کردیا کپتانی نکی پہلی سال کے اختتام پر یہ نوجوان 13 ٹیسٹ میچوں میں88 وکٹیں حاصل کر لیں ۔پرکشش جسامت کیساتھ ساتھ سحرانگیز شخصیت کے مالک اس نوجوان نے اپنے قومی ٹیم کو تاریخ ساز کامیابیوں سے نوازا،تاریخ گواہ ہے کہ جو کامیابیاں اس کے دس سالہ دورکپتانی میں پاکستانی ٹیم کو حاصل ہوئیں ان کی مثال نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد۔1992 ئ میں اس نوجوان نے پاکستان کو ورلڈ کپ جتوا کرعالمی کرکٹ کا ٹائیگربنا دیااور پھر اس نوجوان نے کھیل کی پرتعیش دنیا کو باعزت اور قابل فخر انداز سے خیر باد کہہ کر اپنی زندگی کوسیاست جیسے یکسر مختلف راستے پر ڈال دیا تو اسے اس راستے پر بھی ہزاروںنہیں لاکھوں افراد نے خوش آمدید کہا۔
سیاست کے پرخار راستوں پر بڑی دلیری اور استقامت اور اصول پسندی کیساتھ ملک کے پسے ہوئے طبقے کو حق و انصاف کی فراہمی کا نعرئہ ِمستانہ لگا کر اپنے نئے سفر کا آغاز کردیااور انتہائی مختصر سے وقت میں اپنے آپ کو ایک قومی پائے کا سیاستدان ثابت کر دیا۔اتنی صلاحیتوں کا مالک یہ نوجوان عمران خان کے نام سے جانا جاتا ہے،عمران خان نے جس حب الوطنی، جوش و جذبے اور اصول پسندی کیساتھ کرکٹ میں نام بنا کر قوم کا سر بلند کیااسی طرح قوم اور خصوصاً غریب عوام کو ان کا حق یعنی اقتداراورانصاف دلوانے کا عزمِ عالی شان لیکرسیاست کے میدان میں قدم رکھا۔عمران خان نے اپنی سیاست کو روائتی ہتھکنڈوں سے نہ صرف دور رکھا بلکہ اپنی سیاست کو شیشے کیطرح صاف اور واضح بھی رکھا،عمران خان نے پاکستانی سیاست میں رائج لوٹا کریسی، جھوٹ، منافقت،تھانہ کچہری،لوٹ ماراور غنڈہ گردی کی خباثت سے آب زمزم کی طرح پاک رکھا۔
25اپریل1996ئ میں جب کرکٹ کے سپر سٹار عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی پارٹی کا اعلان کیا تو اس وقت کے بڑے بڑے سیاسی سورمائوںنے عمران خان کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ یہ پارٹی چندہی ماہ میں خودبخود ختم ہو جائیگی۔سیاست کے ان نجومیوں کی ساری پیشنگوئیاں نہ صرف غلط ہو گئیں بلکہ الٹا اس جماعت نے چند ہی ماہ میں ملک کے طول و ارض میںاپنی حیثیت بھی منوا لی۔پاکستان تحریک انصاف نے جس تیزی سے عوامی پذیرائی حاصل کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی جماعت اتنی جلدی مقبولِ عام نہیں ہوئی۔عمران خان کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے 2005 میںامریکی جریدے نیوزویک میں اپنے 300 الفاظ پر مشتمل مضمون میںامریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کیخلاف آوازِ حق بلند کی۔اور اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف پر زور دیا کہ وہ اس سانحے پر امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو معافی مانگنے پر مجبور کریں لیکن امریکی کٹھ پتلی صدر پرویز مشرف نے امریکی چاکری کو نبھانا قرآن مجید کی حرمت سے زیادہ اہم سمجھا اور 2006 کے جارج ڈبلیو بش کے دورئہ ِپاکستان کے موقع پرالٹا عمران خان کو نظربند کر دیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے روزاول ہی سے جاگیرداری،وڈیرہ شاہی اور وی آئی پی کلچر کی نہ صرف نفی کی بلکہ آج تک کسی ایسے شخص کو پارٹی میں نہیں لیا جو عوام کو غلام بنائے رکھنے،اپنی جاگیرداری اور وڈیرہ پن مسلط کرنے،یا پھر خود کو سپریم شخصیت ظاہر کرنے کی سوچ رکھتا ہو،یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں مرکز سے لیکرنیچے تک فیوڈل سوچ رکھنے والا کوئی عہدیدار نہیں ہے، یہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی خوش نصیبی ہے کہ ان کو عوام دوست محب وطن، ایماندار اور مخلص ساتھی میسر آئے ہیں جنہوں نے ذاتی نفع ونقصان کی پرواہ کیے بغیر دن رات ایک کر کے پاکستان تحریک انصاف کو منافقانہ سیاست کے کانٹوں سے بچائے رکھااور اسے ملک کی سب سے بڑی عوامی جماعت بنا دیا۔حال ہی میں دو عالمی اداروں WOT اورFAT نے پاکستان میں ایک سروے کیا جس کے مطابق 29 فیصدپاکستانی عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جبکہ دیگربڑی بڑی جماعتیں 10 فیصد سے بھی کم عوامی حمایت حاصل کر پائے،اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کی روز بروز بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کا اندازہ ایک پاکستانی قومی اخبار کی ویب سائیٹ پول کے حیران کن نتائج سے بھی لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق 71 فیصد سے زائد افراد نے عمران خان کو اپنا لیڈر چن کر آئندہ الیکشن میں ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا جبکہ اس پول میں بھی دیگر جماعتیں مسلم لیگ ﴿ن ﴾ 22 فیصد اور پیپلزپارٹی 7 فیصد عوام کی پذیرائی حاصل کر پائیں۔
عمران خان یا پاکستان تحریک انصاف کو اس قدر عوامی پذیرائی صرف عوام دوست اور صاف شفاف دوٹوک پالیسیوں کے باعث ملی ہے اس میں جھوٹ منافقت،لوٹا کریسی یا جاگیردارانہ اثرورسوخ شامل نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹنے کے پاداش میں موجودہ زرداری حکومت نے 15 مارچ کو قائدِ غریب عوام عمران خان کو حکومت مخالف احتجاج کے الزام میں نظربند کر دیا۔پاکستان کی عوام غریب ،مظلوم اور بے بس ضرور ہیں مگر لاشعور اور کم عقل ہرگز نہیں ،وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر بار شعبدہ بازی کر کے ان سے ووٹ لیکر کامیاب ہونے والے نام نہاد لیڈر منتخب ہونے کے بعد کس طرح انہیں مشکلوں اور مصیبتوں میں ڈالنے کے بعدخود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر عیاشی کرتے ہیں، عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے جھوٹے وعدوں پر ٹرخا کر مہنگائی، بیروزگاری اور بد امنی کی دلدل میں ڈال کر بیرون ملک اربوں روپے کے ناجائز اثاثے بنانے والے کس طرح زلزلوں، بم دھماکوں ،ڈروں حملوں اور سیلاب جیسی آفتوں سے لڑنے کیلئے عوام کو اکیلا چھوڑ گئے،قوم پر جب بھی کڑا وقت آیا آج کل کے یہ تمام ن ق م وغیرہ نامی جماعتوں کے نام نہاد لیڈر بھاگ کر بیرون ملک اپنے آقائوں کے قدموں میں جا بیٹھتے تھے جبکہ پاکستانی قوم سسک سسک کر زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔
پاکستان تحریک انصاف وہ واحد جماعت ہے جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں قوم کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ قوم کو مصیبتوں اور بحرانوں سے نکالنے کیلئے عالمی سطح کی کاوشیں کیں،حالیہ سیلاب کی قدرتی آفت میں بھی قائد تحریک اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے مصیبت زدہ عوام کی بھر پور مدد کیلئے عالم گیرتحریک ’’ پکار ‘‘ شروع کر کے سیلاب زدگان کی بحالی کا بیڑا اپنے سر اٹھایا۔عمران خان نے دن رات ایک کر کے سیلاب متاثرین کیلئے کروڑوں ڈالر امداد حاصل کر کے مستحقین میں تقسیم کی اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے یہ عمران خان ہی ہیں جنہوں نے ملک کے غریب عوام پر کوئی ٹیکس لگا کر نہیں بلکہ دنیا بھر کے مخیر افراد سے فنڈ اکٹھا کر کے لوگوں کو ماڈل گھر بناکر دینے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی بڑی عوامی جماعت ہونے کے دعویداراور متعدد بار اقتدار کے مزے لوٹنے والی جماعتوں میں سے کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اپنے اربوں روپے کے اثاثوں میں سے ایک پائی بھی ان مصیبت زدہ لوگوں پرخرچ کرتے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں جس تیزی سے ملک کے کونے کونے میں اپنا سیاسی اثرورسوخ بڑھا رہی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ملک میں تبدیلی کا خواب پورا ہو گا اور پاکستان میں صحیح معنوں میں عوامی اور جمہوری حکومت پاکستان تحریک انصاف کے جھنڈے تلے قائم ہوگی۔”
تجربات اور زندگی کی اہمیت
زندگی کی ہر مشکل کسی نا کسی تجربے کی صورت ایک نیا سبق دیتی ہے۔۔۔ کسی انتہا درجے کے آسان دنیاوی کام سے لے کر کسی بے حد پیچیدہ مہم تک۔۔۔ زندگی ہمیں ہر لمحے کچھ نا کچھ نیا ضرور سکھا تی رہتی ہے چاہے ہم سیکھنا چاہیں یا نہیں۔۔۔ اکثر مجھے محسوس ہوتا ہےکہ یہ تجربے اتنے آسان نہیں ہوتے لیکن اگر ہم کچھ لمحے رکیں اور زندگی کی جانب ایک نظر دوڑائیں تو یہ تجربات ہمیں اپنے ہر گزرے ہوئے لمحے ، ہر کیفیت ، ہر مایوسی اور ہر خوشی میں نظر آتے ہیں۔۔۔ یہ تجربات ہر اداسی، ہر سکون، ہر تکلیف اور ہر مسرت میں ہوتے ہیں۔۔۔ ہر تجربہ ایک نئے اور اہم تجربے کا رستہ بنتا ہے ۔۔۔ اور ہر وہ تجربہ جسے ہم نظر انداز کرتے ہوئے اس سے کچھ نہیں سیکھتے ، بار بار ہمیں دستک دیتا ہے ۔۔۔اور تب تک دستک دیتا رہتا ہے جب تک ہم اس سے کچھ سبق حاصل نہیں کرجاتے۔۔۔ بہر حال، زندگی ہمیں نت نئے تجربات سے نوازتی رہتی ہے۔۔۔ اور جتنا سبق ہم سیکھ لیتے ہیں ، زندگی اتنی ہی آسان ہو جاتی ہے۔۔۔
یوں تو ہم سب کا ایمانِ کامل ہے کہ ہماری زندگی فانی ہے۔۔۔ عنقریب ہماری زندگی کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو جائے گا۔۔۔ نا ہمیں کچھ لمحات میسر ہوں گے ، نا کچھ اضافی گھنٹے اور نا ہی خیرات میں دیئے گئے کچھ دن۔۔۔ وہ ساری دولت جو ہم جمع کرتے ہیں، سنبھالتے ہیں اور سنبھال کر بھول جاتے ہیں، کسی اور کی میراث بن جائے گی۔۔۔ ہماری دولت، حسن، زہانت، شہرت، عارضی طاقت مرجھا کر مٹی میں مل جائے گی۔۔۔ اور پھر اس بات کی کوئی اہمیت نہیں رہ جائے گی کہ ہمارے پاس کیا کیا تھا۔۔۔۔!!! ہمارے بغض، ہماری نفرتیں، ہماری ناکامیاں اور ہمارے سب حسد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے۔۔۔ ہماری امیدیں، ہماری آرزویں اور ہمارے سب منصوبے اختتام کو پہنچ جائیں گے۔ وہ سب فتوحات اور شکستیں جو کبھی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی تھیں، اچانک مدہم ہو جائیں گی۔۔۔ اور آخر کار ہمیں یاد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔ تو آخر قدر کس بات کو ہوگی۔۔۔؟ “ہمارا” تخمینہ کیسے لگایا جائے گا۔۔۔ اور ہماری زندگی کی کیا قیمت لگے گی۔۔۔؟
اہمیت اس بات کی نہیں ہوگی کہ ہم نے کیا خریدا۔۔۔ بلکہ ہم نے کیا ”تعمیر کیا”۔۔۔
اہمیت ہمارے پانے کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہمارے صدقِ دل سے بانٹے ہوئے کی ہوگی۔۔۔
ا ہماری جیت کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری اہمیت کی ہوگی۔۔۔
ہمارے علم حاصل کرنے کی نہیں۔۔۔ بلکہ علم کی روشنی پھیلانے کی ہوگی۔۔۔
ہماری قابلیت کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہمارے کردار کی ہوگی۔۔۔
ہمارے قول کی نہیں۔۔۔ بلکہ ہماری سوچ کی ہوگی۔۔۔
اہمیت ہمارے تعلقات کی تعداد کی نہیں۔۔۔ بلکہ ان اچھی یادوں اور الفاظ کی ہوگی جو ہمارے مرنے کے بعد ہمارے تعلق ہمارے لیے استعمال کریں گے۔۔۔
اہمیت ہماری یادوں کی نہیں۔۔۔ بلکہ ان کی یادوں کی ہوگی جو ہم سے پیار کرتے ہیں۔۔۔
اہمیت اس بات کی ہوگی کہ ہماری قربانی ، ہمدردی اور ہمت کیسے نئی مثالیں قائم کرتی ہے۔۔۔ ایک حادثہ کی صورت گزارنا کوئی زندگی نہیں۔۔۔ معنی خیز زندگی ایک صورتِ حال کی بجائے ایک انتخاب کی طرح جینا ہے۔۔۔
زندگی میں کئی ایسے حادثات اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں کمزور، بے وقعت اور دل شکستہ بنا دیتے ہیں۔۔۔ جب ہمیں اپنا وجود ایسی ریت کے طرح لگتا ہے جوایک گرداب کی صورت زمین میں ڈوبے جا رہی ہے۔۔۔ اور ہم اس گرداب سے نکلنے کے لیے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ باوجود یہ کہ ہمیں مشکل سے نکالنے کے لیے صرف مضبوط سہارا ہی نہیں بلکہ مضبوط خود ارادی بھی درکار ہوتی ہے۔۔۔ اور یہ مضبوط ہاتھ کسی اور کا نہیں بلکہ صرف ہمارے پروردگار کا ہی ہو سکتا ہے۔۔۔ اور ہمارے رب نے اپنی کتاب میں ہر مشکل سے نپٹنے اور کامیاب ترین زندگی گزارنے کا ہر طریقہ لکھ دیا ہے۔۔۔
ہم اپنی ساری زندگی دوسروں کو خوش کرنے اور متاثر کرنے میں گزار دیتے ہیں۔۔۔ اور اس کوشش میں اس حد تک گزر جاتے ہیں کہ دنیا کو “نہیں” کہنا بھول جاتے ہیں۔۔۔ اور یہاں تک کہ ہر وہ کام جاتے ہیں جو اللہ کی مرضی اور حکم کے خلاف ہو۔۔۔ جب کہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم نے اپنے رب کو کیسے خوش اور راضی کیا۔۔۔ انتخاب تو ہمارے نصیب میں ہے۔۔۔ کہ ہم کس کی خوشی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔۔۔ خالق کی یا مخلوق کی۔۔۔
زندگی بہت پیچیدہ ہے۔۔۔ اور ہماری منزل جنت ہونی چاہیے۔۔۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایک نیک اور معنی خیز زندگی جینے کی استطاعت اور ہمت دے۔۔۔ اور ہمیں جنتِ فردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔
اردو، سیارہ، بلاگز اور ایوارڈز
آج کل اردو سیارہ سُونا سُونا سا ہے۔۔۔ کافی عرصے سے ایسی کوئی تحریر پڑھنے کو ملی ہی نہیں جسے پڑھ کر ایسا محسوس ہوا ہو، کہ بلاگر سے ملاقات ہو رہی ہے۔۔۔ روزانہ “اردو سیارہ” میں خبروں کا ہجوم نظر آتا ہے۔۔۔ جیسے اردو سیارہ نہیں “جنگ اخبار” پڑھنے کو مل رہا ہو۔۔۔ بس فرق صرف چندے الفاظ کا ہی ہوتا ہے۔۔۔
اگر اخبار نا ہوا تو کچھ اقتباسات اور شاعری پڑھنے کو مل جاتی ہے۔۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لکھاریوں کے پاس اب کچھ “اوریجنل” رہا ہی نہیں لکھنے کے لیے۔۔۔ کاپی پیسٹ، ترجمے پر ترجمے اور وہی سیاسیات پر خبریں۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا یہی “بلاگ” کی صحیح روح ہے۔۔۔ بلاگ کا مطلب کیا ہے اور کیا سے کیا بن گیا ہے۔۔۔؟ میرے ایک عزیز قاری “جناب بلا امتیاز” صاحب نے کچھ عرصے پہلے میری ایک تحریر پر تبصرہ یوں کیا تھا کہ تحریر “واہ واہ” کرنے کے لیے نہیں، اپنی سوچ کی پیاس بجھانے کے لیے ہونی چاہیے۔۔۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ بلاگز شخصی بھڑاس نکالنے اور ذاتی سوچ پھیلانے کے لیے نہیں، بلکہ پراپگینڈہ اور تعریفیں سمیٹنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔۔۔
اور پھر یوں ہوا کہ “بلاگ ایوارڈز” کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔ کہا گیا کہ اپنا بلاگ خود “نامزد” کریں، اور خود ہی ووٹ کی اپیل بھی کریں۔۔۔ چونکہ بلاگ ایوارڈز والوں کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں، جو اچھے بلاگز کی تلاش کرے اور اپنی “قابل” جیوری کے ذریعے انہیں ایوارڈ سے نوازے۔۔۔ اب اگر “افتخار اجمل بھوپال صاحب” یا “ڈاکٹر جواد خا ن صاحب” یا “محمد سلیم صاحب” اپنا بلاگ بذاتِ خود نامزد نہیں کریں گے تو کیا ان کا بلاگ اس قابل نہیں کہ وہ ایوارڈ جیت سکے۔۔۔
ایوارڈز کے لیے اردو کیٹیگری میں جتنے بلاگز نامزد ہوئے ہیں، اس کا واحد مثبت پہلو یہ ہے کہ اردو سیارہ کی بیرونی دنیا اس حقیقت سے روشناس ہوجائے کہ پاکستان میں “اردو بلاگز اور بلاگرز” بھی موجود ہیں۔ جو ہمہ وقت اردو زبان کے فروغ اور اپنی ذاتی رائے عمدہ زبان و بیان کے ساتھ ایک چھوٹی سے دنیا تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔۔۔
اب مجھے کوئی یہ بتائے کہ اردو میں خبریں دینے والی ویب سائیٹ ایک بلاگ کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔؟ یا ایک ایسی سائیٹ جس میں شاعری کاپی پیسٹ کی گئی ہے۔۔۔ وہ بلاگ کہلانے کے قابل ہے۔۔۔؟
انگریزی بلاگز اور اردو بلاگز میں زمین آسمان کا فرق صرف زبان ہی نہیں، بلکہ سوچ کا بھی ہے۔۔۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر انگریزی بلاگ “ترقی پسندی” کے نام پر وطن ، ثقافت اور مذہب کے بڑے نقاد ہیں۔۔۔ چونکہ انگریزی زبان میں بات کرنا اور لکھنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے۔۔۔ اور اس فیشن کی مزید جدت “تنقید” ہے۔۔۔ انگریزی زبان میں فقرے کسنا ہے۔۔۔ پاکستان، اسلام اور ثقافت کی ہر ہر بات پر طنز کرنا ہے۔۔۔
اردو بلاگر وں سے مجھے بڑی امیدیں ہیں۔۔۔ نا صرف اردو زبان کا فروغ ضروری ہے، بلکہ اس میں نئی اور مثبت قوتِ تخلیق بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔۔۔ اردو بلاگروں میں چند بہت عمدہ لکھنے والے حضرات موجود ہیں۔۔۔ ان صاحبان کے بلاگزکو فروغ دینا بھی دیگر بلاگروں کے لیے ضروری ہے تاکہ نئے پڑھنے والوں کواردو بلاگز کا پہلا تاثر ہی مثبت اور عمدہ ملے۔۔۔
اور پھر اردو بلاگرز کو “ناپختہ ذہنیت” کا الزام بھی سہنا پڑتا ہے۔۔۔ کہتے ہیں کہ جگت بازی اور مذہب کے سوا اردو بلاگروں کے پاس اور کوئی نیا موضوع ہے ہی نہیں۔۔۔ اب یہ الگ بات ہے کہ “کہنے والے” خود جگتوں اور مذہبی تبلیغ کا سب سے بڑا نشانہ رہے ہیں۔۔۔ اورانہوں نے تعصب کو بنیاد بنا کر اچھے لکھاریوں کے بلاگزسے اپنا منہ موڑ رکھا ہے۔۔۔ اس لیے ان میں اور کبوتر میں مجھے کوئی ذیادہ فرق محسوس نہیں ہوتا۔۔۔
میں تو سوچ رہا ہوں کہ چھوڑیں جی “انگریزی مارکہ ایوارڈز” کو۔۔۔ آئیے ہم اپنا اردو بلاگ ایوارڈ -ایوارڈ کھیلتے ہیں۔۔۔
نوٹ: اردو سیارہ چونکہ باقاعدگی سے “اپڈیٹ” نہیں ہو پا رہا ۔۔۔ اور منتظمین بہت مصروف معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ انتظامیہ دوسرے ہاتھوں میں سونپ دی جائے تاکہ اردو سیارہ مستقل طور پر اپڈیٹ ہوتا رہے۔۔۔؟
احساسات
منظر جیسے بھی ہوں، اپنے اندر ایک احساس رکھتے ہیں۔۔۔ نگاہ جس پر پڑے ایک نیا اثر، بینائی کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔۔۔ ماحول اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں۔۔۔ خوشگوار احساسات، اداس سائے، خوش گمانیاں، آس، بے یقینی وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اور۔۔۔ انہی جیسے احساسات پر مبنی شب و روز ہیں، جو گویا گزرے ہی چلے جا رہے ہیں۔۔۔ ہر پل ایک نیا احساس دل ودماغ کو ایک نئی راہ دکھاتا ہے۔۔۔
مگر جو پل بیت جاتے ہیں ، وہ بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔ کم از کم کچھ ہونے کا احساس تو دلاتے ہیں۔۔۔ کوئی خوشی ہو یا کیسا بھی غم ہو۔۔۔ انسان اس کو جھیل ہی لیتا ہے۔۔۔ مگر جو وقت آنے والا ہے، اس کے انتظا ر کے کیا ہی کہنے۔۔۔!!!
اس پر مزید یہ کہ انسان سداکا خوش گمان ٹھرا۔۔۔ کتنی ہی بے یقینی کیوں نا ہو۔۔۔ ایک بجھتا دیا اپنے لرزتے ہاتھوں کے حصار میں لیے رہتا ہے۔۔۔ ناجانے کب اس کی لو جان پکڑ لے۔۔۔ یا اس دیے کے کشکول میں کچھ تیل بھیک میں مل جائے ، جو اس کو کچھ اور پل ، کچھ اور گھڑیاں جلائے رکھے۔۔۔
دیے کا تو کام ہی ہے جلنا، اور آخر ایک دن خاک ہو جانا۔۔۔ مگر ان لرزتے ہاتھوں کا کیا جو اس کو زندگی دینے کی کوشش میں خود کو تنگ اور پریشان کرتے رہے، کہ کاش کوئی آس ، کوئی امید اس دیے کی لو کو کچھ سمے جلتا رکھے۔۔۔
صبح کا منظر کتنا خوشگوار ہوتا ہے۔۔۔ ہر نئی صبح ، سنا ہے ایک نیا پیغام لاتی ہے۔۔ مگر جس طرح اس صبح کا بھی زوال ہے، اسی طرح۔۔۔ زوال کو بھی کسی نئے عروج کی کوکھ سے جنم لینا ہے۔۔۔ اب اس جنم لینے میں جتنی اذیت ہو، وہ تو اس ماحول کا مقدر ٹھرا۔۔۔
اسی عروج و زوال میں بیت رہی ہے زندگی میری۔۔۔
ایک پنجابی اور کراچی والے
پنجابی اور وہ ایم بی اے کی کلاس میں پہلی دفعہ ملے تھے۔۔۔ اور دونوں شدید محبت کرنے لگے۔۔۔ وہ کراچی کی تھی۔۔۔ اور بہت اچھی تھی۔۔۔ اتنی اچھی کہ پنجابی اس کے عشق میں گرفتار ہوتا ہوتا اس حد تک پہنچ گیا کہ پنجابی کے دل بھی بس اسی کے نام سے دھڑکتا تھا۔۔۔ دونوں نے بہت خواب دیکھے۔۔۔ بہت خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کے ساتھ زندگی گزارنے کے خوبصورت خواب۔۔۔ ایک دوجے کا ہاتھ تھامے زندگی کے ہر لمحے کومزید خوبصورت بنانے کے خواب۔۔۔
پنجابی نے کبھی نا سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کراچی کی ہے۔۔۔ اور اس کے دل و دماغ میں پنجابی کے “پنجابی ” ہونے کا کوئی تصور نہیں تھا۔۔۔ بس دونوں ایک دوجے کی محبت اور ساتھ میں ڈوبتے ہی چلے گئے ۔۔۔
پنجابی کا آفس اس کے آفس سےصرف ایک کلومیٹر دور تھا۔۔۔ ہر شام دونوں کام ختم کرنے بعد ، رستے میں موجود ایک کفتیریا کے باہر اپنی اپنی گاڑیاں کھڑی کرتے اور چائے پیتے۔۔۔ چائے کی چسکیاں بھرتے، دونوں کی نظریں ٹکراتی رہتی لیکن لب کم ہی ہلتے تھے۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ دونوں کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔ بس نظروں کا اٹھنا، جھکنا اور ایک دوسرے سے ٹکرانا ہی ساری گفتگو تھی۔۔۔
چائے ختم ہوتے ہی، دونوں اللہ حافظ کہہ کر اپنے اپنے گھر کی جانب روانہ ہو جاتے۔۔۔ لیکن گھر پہنچتے پہنچتے موبائل پر پھر سے رابطہ ہوتا اور وہ ساری باتیں کی جاتی جو آمنے سامنے کہہ نا پاتے۔۔۔
ساری ساری رات فون پر دل کے احوال کہے اور سنے جاتے۔۔۔ کئی بار لنچ یا ڈنر کے لیے بھی باہر جاتے۔۔۔ اتنے قریب اور تنہا ہونے کے باوجود ، پنجابی نے کبھی اسے ہاتھ تک نا لگایا، کہ پنجابی کو اس کی عزت اور عصمت کی بہت فکرتھی۔۔۔
پھر اچانک، اس کے گھر والوں کی ضد نے اس کی اور پنجابی کی زندگی اجاڑ دی۔۔۔ اور دونوں اپنے خواب کھو بیٹھے۔۔۔ اس کی منگنی طے کر دی گئی۔۔۔ پنجابی پر یہ خبر قہر بن کر گری۔۔۔ اور قریب تھا کہ پنجابی اپنے حواس کھو بیٹھتا۔۔۔ پنجابی نے بہت سوچ کر اسے، ہر قسم کے وعدوں اور قسموں سے آزاد کیا اور اسے تلقین کی کہ وہ اپنے والدین کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کرے اور اپنے نئے ہمسفر کے ساتھ بھی وفا کرے۔۔۔
کچھ ہی عرصے میں اس کا رویہ پنجابی سے بلکل بدل گیا ۔۔۔ اور اب وہ پنجابی کو حد درجہ نظر انداز کرنے لگی۔۔۔ پنجابی جو دل کو اب تک سمجھا رہا تھا، اس نظر اندازی کو برداشت نا کر پایا۔۔۔ وہ اس کے سامنے رویہ گڑگڑایا کہ کم از کم دن میں ایک بار چند لمحوں کے لیے ہی سہی ، لیکن اپنی آواز تو سنا دے۔۔۔ کہ شاید اس کی آواز ہی پنجابی کا آخری سہارا تھی۔۔۔ لیکن وہ اپنے منگیتر کے ساتھ مصروف ہوتی گئی۔۔۔۔ اور پنجابی کو ایک ہمیشہ کے لیے محبت کے جہنم میں ڈھکیل گئی۔۔۔ اب پنجابی ہمیشہ جلتا اور کڑھتا رہتا ہے۔۔۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کس نے چھوڑا، “اس” نے یا “محبت” نے۔۔۔ پنجابی اب بھی اس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔۔ لیکن وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہے ۔۔۔ اور پنجابی کی دسترس میں بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی، وہ اب تک “اس” کی عزت کی حفاظت کر رہا ہے۔۔۔
_____________________________________
وہ پنجابی کے سامنے بیٹھا آنسو بہا رہا تھا۔۔۔ اس کے ویزٹ ویزے کے خاتمہ میں بس دس دن رہ گئے تھے اور اسے نوکری کی اشد ضرورت تھی۔۔ اور وہ کراچی واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔ پنجابی اس کی ریزومے کو بغور پڑھ رہا تھا۔۔۔
چند دن پہلے ہی پنجابی نے اپنے “پرچیزر” کو نکالا تھا۔۔۔ اور کام کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا تھا۔۔۔ پنجابی نے اس کمپنی کے لیے خون پسینہ بہایا تھا ۔۔۔ کینیڈا کے مالک پنجابی پر بہت اعتماد کرتا تھا۔۔۔ پنجابی نے دن رات کی محنت سے اس کمپنی کو صحرا سے اٹھا کر 15 ملین ڈالر کی کمپنی بنا دیا تھا۔۔۔ پنجابی پاکستان سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔ سٹیل فیبریکیشن کی کمپنی میں پاکستان سے 150 ویلڈر اور فیبریکیٹر منگوائے ، انہیں اچھی تنخواہیں دیں، ہر طرح کی سہولت دی۔۔۔ پاکستان سے آنے والے محنت کشوں میں 70 صرف کراچی سے تھے۔۔۔ سارے ملازم پنجابی سے شدید محبت کرتے تھے اور اسے اپنا مائی باپ سمجھتے تھے۔۔۔ پنجابی کی عادت ہی محبت کرنا اور دوسروں کے کام آنا تھا۔۔۔
پنجابی کو دو ہفتے بعد چھٹی پر پاکستان جانا تھا۔۔۔ ریزومے پڑھتے ہی پنجابی نے “اس” کی جانب دیکھا اور کہا، “یو آر ہائرڈ۔۔۔ کل سے آفس آ جاو۔۔۔ اپاونٹمنٹ لیٹر ہیومن ریسورس آفس سے لے لو۔۔۔ میں ابھی وہاں فون کر دیتا ہوں۔۔۔ ” اس نے پنجابی کا شکریہ ادا کیا اور جنرل مینیجر کے آفس سے نکل گیا۔۔۔
دو ہفتے میں اس نے اپنی محنت سے ثابت کر دیا کہ پنجابی نے اسے پرچیزر رکھ کر کوئی غلطی نہیں کی۔۔۔ اور وہ سیکھنے کی بہت لگن رکھتا ہے۔۔۔ پنجابی اپنا کام مختلف ڈیپارٹمنس کو سونپ کر چھٹی پر چلا گیا۔۔۔ یہ چار سال میں اس کی پہلی چھٹی تھی۔۔۔ اور وہ بھی صرف ایک ماہ کے لیے۔۔۔
ایک ماہ کے آرام کے بعد پنجابی واپس آیا۔۔۔ تو اس نے آفس کا ماحول میں واضح تبدیلی محسوس کی۔۔۔ کمپنی کا مالک بھی پنجابی سے اس گرم جوشی سے نا ملا ، جیسے وہ پہلے ملتا تھا۔۔۔ کچھ وفادار ملازم ایک شام اس سے باہر ملے اور اس تبدیلی کی وجہ بیان کی۔۔۔ بقول ان کے، “اس” نے پنجابی کے پاکستان جاتے ہی مالک سے میل جول بڑھانا شروع کر دیا۔۔۔ اور زیادہ وقت اس کے زاتی کام کرنے میں گزارتا تھا۔۔۔ اور کئی بار لوگوں نے مالک سے اسے پنجابی کی برائیاں کرتے بھی سنا۔۔۔ مالک جو شاید کچے کان کا تھا، اسے پنجابی سے متنفر ہونے میں زیادہ وقت نا لگا۔۔۔ اس نے مالک کو یقین دلا دیا کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں کاٹ کر یا کم کر کے منافع میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔۔۔ پنجابی اس پلان کے آڑے آ گیا۔۔۔ وہ محنتی ملازمین کو ان کی محنت کے مطابق تنخواہ دینے کا حامی تھا۔۔۔ کئی بار پنجابی نے اسے اپنے آفس بلا یا تاکہ وہ اسے ان حرکات سے باز رکھ سکے۔۔۔ لیکن وہی شخص ، جو نوکری حاصل کرنے کے لیے پنجابی کے سامنے آنسو بہا رہا تھا، اس نے پنجابی کی ہر بات سننے سے انکار کر دیا اور پیغام بھیج دیا کہ پنجابی اسے جو بھی کہنا چاہتا ہے، مالک کے توسط سے کہہ دے۔۔۔
یوں کام کرنا پنجابی کے لیے عذاب بن گیا، اور چھ ماہ بعد پنجابی نے اس کمپنی سے استعفیٰ دے دیا، جس کو اس نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا۔۔۔
_________________________________________
ایک شام پنجابی اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا، اپنی محبت کی بے وفائی اور نوکری چلی جانے کی روداد سنا رہا تھا۔۔۔ دوست نے سرد آہ بھری اور اسے کہا ۔۔۔ “یار کراچی کے لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں، بے وفا اور خودغرض۔۔۔ اب ان سے بچ کر رہنا۔۔۔” اس نے چونک کر اپنے دوست کی جانب دیکھا۔۔۔ اور پھر حیرت میں ڈوب گیا۔۔۔ اس نے تو کبھی ان سطور پر سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ شاید پہلے بھی کئی دوست اسے دغا دے گئے، ان میں سے بھی کئی دوست کراچی کے تھے۔۔۔ تو کیا سارے کراچی والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔؟
پنجابی کو تو نئی نوکری مل گئی، جو پہلی نوکری سے بھی اچھی اور پرسکون تھی۔۔۔ وہ اسی محنت اور محبت کے ساتھ پھر سے کام پر لگ گیا۔۔۔ لیکن جب کچھ لمحے سکون کے ملتے تو وہ خود سے سوال کرتا کہ آخر اس نے کیا گناہ کیا۔۔۔؟ کیا محبت، محنت، وفاداری، انسان پروری، اعتبار اور اعتماد گناہ ہیں۔۔۔؟ کیا اس نے یہ سب کر کے کچھ غلطی کی۔۔۔؟ کیا اب وہ ساری عمر ، ان خوبصورت لیکن تلخ یادوں سے پیچھا چھڑا سکے گا۔۔۔ ؟ کیا وہ پھر کسی پر اعتبار کر سکے گا۔۔۔؟ کیا جو کچھ اس کے ساتھ ہوا، ایسا کرنا “کراچی” والوں کی خصلت میں ہے۔۔۔؟
نہیں، سارے کراچی والے برے نہیں، اسے کاشی یاد آ جاتا۔۔۔ جو اس کا گہرا دوست ہے۔۔۔ اور ہر دوسرے ہفتے کراچی سے فون کر تا ہے۔۔۔ اور وہ اسے شدید محبت کرتا ہے۔۔۔ نہیں سارے کراچی والے برے نہیں ہوتے۔۔۔۔ یہ تو بس ایک تجربہ تھا، جو اسے ہونا ہی تھا۔۔۔
_________________________________________
کچھ دن پہلے ایک تحریر میں پنجاب اور پنجابیوں کی خصلتوں پر بہت کڑی تنقید کی گئی تھی۔۔۔ صاف ظاہر تھا کہ محترمہ میں کس حد تک تعصب ہے۔۔۔ میں پھر سوچنے پر مجبور ہو گیا۔۔۔ کہ میں تو ایک محدود دائرہ کا باسی ہوں۔۔۔۔ میرے دکھ اور میری ساری خوشیاں تو مجھ سے شروع ہو کر زیادہ سے زیادہ میرے والدین ، بیوی بچی اور بھائی بہنوں تک ہی محدود ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور میرے جیسے سادہ انسان بھی چند واقعات اور تجربات کی بنیاد پر کسی ملک، مذہب اور ثقافت پر اپنی اچھی یا بری رائے قائم کر سکتا ہے۔۔۔ تو پھر میں پاکستان کے ہر شہر، ہر صوبے، ہر زبان سے یکساں محبت کیوں کرتا ہوں۔۔۔ جبکہ مجھے بھی اپنے پاکستانی بھائیوں سے ہی کوئی دھوکے ملے ہیں۔۔۔ جب میرے ساتھ کوئی برا کرتا ہے تو کیوں یہ نہیں سوچ پاتا کہ کسی کراچی یا سندھی نے میرے ساتھ برا کیا۔۔۔ یا پنجابی، بلوچی اور پٹھان نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔ کیوں۔۔۔؟ کیوں مجھ میں ایسا تعصب نہیں ہے۔۔۔ جیسا کہ محترمہ اپنی ہر دوسری تحریر میں زہر کی صورت نکالتی ہیں۔۔۔
بڑا شکر کرتا ہوں اللہ کا، کہ اللہ نے مجھے متعصب نہیں بنایا۔۔۔ سب سے محبت کرنے والا اور اپنے مذہب و ملک سے حد درجہ محبت کرنے والا بنایا۔۔۔
ویسے اوپر لکھے گئے واقعات میں پنجابی، دراصل، میں خود ہوں۔۔۔
لبیک – قسط سوم – مکہ مکرمہ اور بیت اللہ
نوٹ: میری اس تحریر کا مقصد “ریاکاری” ہرگز نہیں ہے۔۔۔ نا ہی مجھے دنیا کے سامنے نیک بننے کا شوق ہے۔۔۔ اور نا ہی مجھے یہ یقین ہے کہ میں اچھا انسان ہوں۔۔۔ بلکہ میرا ماننا ہے کہ یقیناً روئے زمین پر مجھ سے زیادہ گناہگار انسان کوئی نہیں ہے۔۔۔ براہ کرم اس تحریر کو صرف ایک سفرنامہ اور ایک تجربے کے طور پر لیجیے۔۔۔ شکریہ
پہلا عمرہ اور پہلا نظارہِ بیتُ اللہ۔۔۔ کیا احساسات ہو سکتے ہیں انسان کے۔۔۔؟
جوں جوں گاڑی مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔ دل کی دھڑکن نہایت تیز ہو گئی۔۔۔ بےقراری ہی سمجھ لیں جس نے دو گھنٹے کی مسافت کو ناجانے کتنے سالوں کے لمحات بنادیا۔۔۔ جو ختم ہونے کا نام ہی نا لے رہی تھی۔۔۔ دل ندامت سے بھرپور تھا۔۔۔ اُسی سوچ کے ساتھ کہ جانے میرے گناہ مجھےاتنی پاک جگہ کیسے جانے دیں گے۔۔۔ میں تو اس قابل ہی نہیں کہ مجھے زیارتِ بیت اللہ کا شرف بخشا جائے۔۔۔ میں وہ ساری دعائیں دل ہی دل میں دہرانے لگا جو مجھے کعبہ کے پہلے دیدار پر مانگنی تھیں۔۔۔ اور بھی بہت سے لوگوں کی دعاووں کے لیے گزارشات یاد آئیں کہ جب بھی کوئی مجھے دعا کے لیے کہتا ، میں صرف انشاءاللہ ہی کہہ پاتا اور دل میں سوچتا کہ میں اس قابل کہاں کہ کسی کے لیے دعا کر سکوں۔۔۔
عشاء کی نماز راستے میں ہو گئی لیکن سلمان صاحب گاڑی روکنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے کہ دیر ہو جائے گی۔۔۔ نماز حرم جا کر ہی پڑھیں گے۔۔۔ میں بادلِ ناخواستہ خاموش ہو گیا کہ اپنی موجودہ حالت کی وجہ سے سلمان سے ضد کرنے کی ہمت نہیں جتا پا رہا تھا۔۔۔
دس بجے مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوئے۔۔۔میں زبان پر مسلسل تلبیہ کا ورد کر رہا تھا۔۔۔ اور گاڑی کی رفتار سے بھی تیز گزرتی ہوئی نئی بنی عمارتوں کو تک رہا تھا۔۔۔ کہ کبھی یہاں صحابہ کرام رہتے ہونگے۔۔۔ کبھی یہاں رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا ہو گا۔۔۔ کتنی مبارک زمین ہے یہ۔۔۔
اچانک سلمان نے میری توجہ بائیں طرف گزرتی ایک خوبصورت مسجد کی طرف مبذول کرائی اور بتایا کہ یہ مسجد عائشہ ہے۔۔۔ مکہ مکرمہ میں رہنے والے مسجد عائشہ سے ہی احرام باندھتے ہیں۔۔۔ اس وقت مجھے مسجد عائشہ کی تاریخی حیثیت کا علم نہیں تھا۔۔۔ فارغ وقت میں کچھ ریسرچ وغیرہ کی تو یہ پتا چلا کہ مسجد عائشہ حرم پاک سے تقریباً ساڑھے سات کلومیٹر کی دوری پر ہے۔۔۔ اور حجۃ الوداع کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے عمرہ کے لیے احرام اور نیت یہاں باندھی تھی۔۔۔

مسجد عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
اب مکہ کا مشہور “کلاک ٹاور” بہت واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ جس سے مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ ہم حرم پاک کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔۔۔ پانچ منٹ کی مزید ڈرائیو کے بعد حرم پاک کے مینار نظر آئے۔۔۔ میں دور سے ہی میناروں کے نظارے میں گم تھا کہ پھر اچانک سلمان صاحب کی آواز آئی کہ بھائی ہوٹل پہلے دیکھ لیں یا عمرہ کے بعد۔۔۔ میں نے کہا ، بعد میں ہوٹل کا بندوبست کریں گے، ابھی سیدھا بیت اللہ چلو۔۔۔ اب مزید انتظار مشکل ہے۔۔۔


کچھ فاصلے سے گاڑی سے ہی حرم پاک کا پہلا منظر

مسجد الحرم کے باہر ایک پل کے جانب لگا یہ بل بورڑ، جس پر مستقبل کے توسیعی منصوبہ کی تصویر ہے۔ انشاءاللہ چند سالوں میں کعبہ کے اردگرد ایسی ہی بلندو بالا عمارتیں کھڑی ہونگی، جو حجاج کرام کی سہولت کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔
سلمان کا چونکہ مکہ مکرمہ باقاعدگی سے آنا جاناہوتا ہے تو اس نے کہا ویسے تو گاڑی کے لیے پارکنگ ملنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔ لیکن ہم حرم پاک کے بلک سامنے واقع ہلٹن ہوٹل کی بیسمنٹ میں پارکنگ کریں گے۔۔۔
ماہ رمضان کے بعد تو ویسے بھی زائرین کا رش بہت کم ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے ہمیں سڑکوں پر بھی کچھ خاص ٹریفک اور چہل پہل نظر نہیں آئی۔۔۔ گاڑی ہلٹن ہوٹل کی پارکنگ میں پارک کرنے کے بعد میں اپنا احرام سنبھالتے باہر نکلا ۔۔۔ چونکہ پہلی دفعہ تھی اس لیے “لنگی” کی طرح باندھنے میں مشکل ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن خیر کسی نا کسی طرح وہیں کھڑے کمر کس ہی لی۔۔۔
لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمدہ والنعمۃ لک والملک، لاشریک لک پڑھتے ہوئے میں اور سلمان مسجد الحرم کی جانب بڑھے۔۔۔ سلمان نے یاد دہانی کروائی کہ بھائی، کعبہ کو پہلی نظر دیکھتے ہی جو بھی دعا کرو، وہ قبول ہوتی ہے۔۔۔ اس لیے یاد کر لو کہ کیا کیا دعا مانگنی ہے۔۔۔ دماغ میں اچانک بھابھی (سلمان کی زوجہ محترمہ) کی بھی بات یاد آگئی کہ انہوں نے کہا تھا کہ بھائی، آپ جتنا بھی سوچ لوکہ کیا کیا مانگنا ہے یا دعا کرنی ہے، وہاں پہنچ کر کیفیت کچھ ایسی ہو جاتی ہے کہ بہت کچھ دماغ سے نکل جاتا ہے، بس دل سخت ہو جاتا ہے۔۔۔


مسجد الحرم کی جانب بڑھتے ہوئے انتہائی قریب سے لی گئی تصاویر
جاری ہے۔۔۔
لبیک – قسط دوم – الھفوف سے مکہ مکرمہ تک
عظیم میرا جگری دوست اور میری چچی کا بھانجا ہے۔۔۔ تقریباً آٹھ سال ہم نے دبئی میں ساتھ کام بھی کیا اور روم میٹ بھی رہے۔۔۔ توصیف اور خرم اس کے ماموں زاد بھائی ہیں ۔۔۔ تینوں احباب چار گھنٹوں سے میرے انتظار میں سوکھ رہے تھے۔۔۔ لیکن وہ بھی جانتے ہیں کہ سعودی حکام کا رویہ کیسا ہے۔۔۔ باہر آ کر سلام دعا ہوئی اور الحفوف کی جانب رواں دواں ہوئے۔۔۔ توصیف گاڑی چلا رہا تھا اور پچھلی سیٹ پر عظیم اور میں براجمان تھے۔۔۔ دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے بعدالحفوف پہنچے۔۔۔ جہاں توصیف کے والدین ہمارا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
عظیم اور میرا پلان یہ تھا کہ جمعہ کی نماز کے بعد الحفوف سے ڈرائیو کر کے جدہ تک جائیں گے جو تقریباً سولہ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے عظیم صاحب کی گاڑی نے انہیں دغا دے دیا اور گیراج جانے کے لیے تیار کھڑی ہی ہو گئی۔۔۔ جمعہ کو تو کوئی گیراج کھلا نا تھا اس لیے ایک رات اور الحفوف میں گزارنی پڑی۔۔۔ اور بروز ہفتہ صبح صبح گاڑی لے کر گیراج چلے گئے۔۔۔ گاڑی ایک بجے تیار ہوئی اور ہم دونوں نے رختِ سفر باندھا۔۔۔
بہت یادگار لیکن تھکا دینے والا سفر تھا۔۔۔ رستے میں صرف نمازوں کے لیے رکے یا ایک بار کھانے کے لیے۔۔۔ تین سال بعد ہم دونوں دوست ملے تھے۔۔۔ توبہت سی باتیں تھی کرنے کے لیے۔۔۔ نا صرف ذاتی نوعیت کی بلکہ مذہبی اور سیاسی معاملات پر بھی پرمغز گفت و شنید ہوئی۔۔۔ عظیم خود کو فلاسفر سمجھتا ہے۔۔۔ اور کسی حد تک ہے بھی۔۔۔ دجال اور دنیا میں پھیلتے دجالی سسٹم کے بارے میں عظیم کے پاس بہت کچھ تھا کہنے کے لیے۔۔۔ میں خاموشی سےسنتا رہا۔۔۔ اور جب میں نے نوٹ کیا کہ یہ فلاسفر کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا ہے۔۔۔ تو میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ بس کر بھائی۔۔۔ میں چھٹیوں پر آیا ہوں۔۔۔ اور اپنے دماغ پر سوچنے سمجھنے جیسا مشکل بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔۔۔ تو وہ کھسیانا ہو کر چپ ہو رہا۔۔۔
الحفوف سے الریاض تک کا راستہ ایسا ہی سنسان ہے۔۔۔ میلوں تک حدِ نگاہ صحرا ہی صحرا ہے
مجھے بتایا گیا کہ یہاں سے الریاض شروع ہوتا ہے
الریاض کے فوراً بعد بہت ہی خوبصورت پہاڑی سلسہ شروع ہوجاتا ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بڑے بڑے پہاڑ کاٹ کر نہایت خوبصورت سڑکیں بنائی گئ ہیں۔۔۔ یہ سلسلہ تب تک چلتا رہا جب تک شام کا اندھیرے نے مجھے مزید تصاویر لینے اور دیگر علاقاجات کے نام پڑھنے اور نوٹ کرنے سے محروم نا کر دیا۔۔۔
مجھے اس کے ساتھ اپنے چچا زاد بھائی سلمان کے پاس جدہ جانا تھا جہاں عظیم کو مجھے چھوڑ کر ینبوع چلا جانا تھا۔۔۔ عظیم صاحب اپنے عادت کے مطابق جدہ کا راستہ بھول گئے۔۔۔ اور سلمان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے انہیں فون کیا۔۔۔ سلمان نے جو راستہ عظیم کو بتایا وہ طائف سے ہو کر گزرتا تھا۔۔۔ طائف سے جدہ کی سڑک خوبصورت لیکن نہایت خطرناک ہے جو پہاڑی سلسلے کو کاٹ کر بنائی گئی ہے۔۔۔ پیمائش تو نہیں مانپ سکالیکن سڑک تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔
کافی سفر کے بعد ایک بورڈ نظر آیا جس پر ایک طرف مکہ مکرمہ کا اشارہ تھا اور دوسری جانب "غیر مسلموں کے لیے باہر " جانے کا اشارہ تھا۔۔۔ سلمان صاحب کی ہدایت کے مطابق عظیم نے "غیر مسلموں کے لیے باہر" جانے کا راستہ لیا۔۔۔ جو ہمیں سیدھا جدہ لے جاتا۔۔۔ لیکن عظیم صاحب تو عظیم ہیں جو وہاں سے بھی راستہ بھول گئے اور ناجانےکس راستے نکل پڑے۔۔۔
دور سے "مکہ کلاک ٹاور" نظر آیا تو میں چیخ اٹھا۔۔۔ کہ بھیا ہم تو مکہ کی جانب جا رہے ہیں۔۔۔ عظیم تھوڑا پریشان ہو گیا۔۔۔ اور کہنے لگا ، یار اگر مکہ کی جانب آ گئے ہیں تو سمجھو سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بڑھ گیا ہے۔۔۔ گاڑی جوں جوں مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ رہی تھی، میرا دل بہت تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔ اور میں تیز ائیر کنڈیشن میں بھی پسینہ سے شرابور ہو گیا۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے اور زبان پر خود بخود سبحان اللہ کا ورد جاری ہو گیا۔۔۔
منیٰ سے گزرتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث سے کچھ خاص تصاویر نہیں لے سکا۔۔۔ بس یہی کوالٹی بن سکی
گاڑی کلاک ٹاور کے قریب سے ہوتے ہوئے منیٰ کے درمیان سے گزر رہی تھی اور میں دونوں جانب حاجیوں کے لیے بنائے گئے سفید خیمے دیکھ رہا تھا۔۔۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں جس مقصد کے لیے سعودی عرب آیا ہوں کیا میں وہ مقصد پورا کر پاوں گا۔۔۔ کیا میں گناہ گار اس قابل ہوں کہ اللہ کے گھر حاضری دے سکوں۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے گناہوں اور کوتاہیوں کے باعث اللہ تبارک تعالٰی مجھے بس یہیں سے واپس بھیج رہا ہے۔۔۔ اور بیت اللہ کا طواف کرنا بس میرا خواب ہی رہ جائے گا۔۔۔ کیا میرا قبیح جسم بیت اللہ پر قدم رکھنے کے قابل بھی ہے۔۔۔ شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ اٹھے۔۔۔ اور دل ہی دل میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور درخواست کی کہ مجھے اپنے گھر بلا لے۔۔۔
جدہ پہنچتے ہی سلمان اور بھابھی نے خوب خاطر مدارت کی ۔۔۔ تھکاوٹ کے مارے حال براتھا۔۔۔ عظیم تو کھانا کھاتے ہی سو گیا کہ اسے صبح صبح ینبوع کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ سلمان صاحب کے ساتھ اگلے دن مورخہ 4 ستمبر کو عمرہ کا پروگرام بنا۔۔۔۔ سلمان ایک رینٹ-اے – کار کمپنی میں اسسٹنٹ آپریشن مینیجر ہے اور اس کا فون مستقل چلتا رہتا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھ تو جائیں لیکن اس سے بات کرنا بہت مشکل ہے کہ اس کا زیادہ وقت فون پر ہی گزرتا ہے۔۔۔ بڑے ترلوں کے بعد اس کا فون بند کروانا پڑتا ہے۔۔۔
بروز 4 ستمبر ، سلمان دوپہر کو ہی گھر آ گئے ۔۔۔ انہوں نے ضد کی کہ احرام گھر سے باندھیں گے۔۔۔ جو مجھے قبول نا تھا۔۔۔ میں نے اپنے استاد صاحب کو عجمان فون کیا اور ان سے مسئلہ پوچھا کہ کیا میں بھی احرام جدہ سے ہی باندھ سکتا ہوں تو انہوں نے منع فرما دیا اور میقات پر جانے کا مشورہ دیا۔۔۔ بادل ناخواستہ سلمان کو میری بات ماننی پڑی اور ہم نے میقات الجحفہ جانے کا فیصلہ کیا۔۔۔
|
مسجد میقات الجحفہ جدہ سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔۔۔ شام سوا چھے بجے مسجدِ میقات الجحفہ پہنچے اور پہلے نماز مغرب پڑھی پھر صفائی ستھرائی اور نہا دھو کر احرام باندھا۔۔۔ چونکہ یہ میرا پہلاعمرہ تھا اس لیے سلمان ہی میری رہنمائی کر رہا تھا۔۔۔ احرام باندھنے کے بعد مسجد میں دو نفل پڑھے اور نیت باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ کی جانب بڑھ گئے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
لبیک – قسط اول – پہلا تجربہ
یکم ستمبر سوا دس بجے فلائیٹ ا لدمام ائیر پورٹ پر اتری۔۔۔ اور میں جہاز سے اتر کر امیگریشن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ مختلف کاونٹروں پر لمبی قطار یں پہلے ہی منتظر تھیں۔۔۔ میں بھی ایک قطار میں کھڑا اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ مجھے لینے آئے عظیم، توصیف اور خرم باہر میرے منتظر تھے۔۔۔ میں نے فون پر انہیں اپنے پہنچنے کی اطلاع دی اور کہا کہ انشاءاللہ آدھے گھنٹے میں سارے مراحل سے گزر کر میں ان سے ملوں گا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اگلے کچھ گھنٹے میرے لیے نہایت اذیت ناک ہوں گے۔۔۔

تقریباً آدھا گھنٹہ بیت گیا اور جس قطار میں میں کھڑا تھا وہ ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔ کل ملا کر صرف تین کاونٹر پر سعودی حکام بیٹھے تھے۔۔۔ اور تینوں قطاریں بس آہستہ آہستہ رینگ رہی تھیں۔۔۔ میں نے جھنجلاہٹ میں تھوڑا آگے بڑھ کر دیکھا کہ مسئلہ کیا ہے، لوگ نکل کیوں نہیں رہے۔۔۔ دیکھا، کہ تینوں حکام آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور کسی کے سامنے کوئی مسافر نہیں کھڑا۔۔۔ جو آگے بڑھتا، اسے اشارے سے اپنی جگہ کھڑا رہنے کا کہتے اور پھر کبھی موبائل سے کھیلنے لگتے اور کبھی اٹھ کر دوسرے کے پاس جا کر کھڑے ہو جاتے۔۔۔ میرا دماغ گھوم گیا کہ یہ کر کیا رہے ہیں۔۔۔ میرا دل چاہا کہ جا کر کسی سعودی سے بات کروں کہ بھائی کچھ کام کر اور ہمیں فارغ کر۔۔۔ لیکن یہ بھی جانتا تھا کہ بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔۔ اسی جھنجلاہٹ میں واپس اپنی جگہ آ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
کچھ دیر بعدشاید انہیں خیال آیا کہ اب کچھ کام کرنا چاہیے۔۔۔ تو ان میں سے دو نے کام شروع کیا اور تیسرا اسی طرح اونچی اونچی آواز میں دوسروں کو چھیڑنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔ تقریباً سوا گھنٹے کی انتظار کے بعد میرا نمبر بھی آ ہی گیا۔۔۔ امیگریشن کے افسر نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور پھر میری طرف واپس پھینک دیا۔۔۔ اور “نیو ویزا “کہہ کر ہاتھ کے اشارے سے آخری کاونٹر پر جانے کا حکم دے دیا۔۔۔ میں نے حیرت اور غصے سے اسے دیکھااور کہا کہ میں پچھلے سوا گھنٹے سے اپنی باری کا انتطار کر رہا ہوں، اس لیے براہ مہربانی یہیں پر پاسپورٹ پر سٹیمپ لگا دے۔۔۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ حیرت اور غصے سے دھاڑا اور “نیو ویزا” کہہ کر پھر آخری کاونٹر کی طرف اشارہ کر دیا ۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ بھائی صاحب کو میری بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ اور اس کا وقت مزید کھوٹا کرنے سے بہتر ہے کہ میں شرافت سے آخری کاونٹر پر جا کر کھڑا ہو جاوں۔۔۔
آخری کاونٹر بدقسمتی سے اسی افسر کا تھا جو باقی دو افسران کو جگتیں مار رہا تھا اور اس کا کام کرنے بلکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔ میں ایک پاکستانی بھائی سے بات چیت کے بہانے اس کے آگے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ وہ بھی کوئی نہایت ہی شریف آدمی تھا جس نے خاموشی سے مجھے اپنے سے پہلے کھڑا ہونے کی اجازت دے دی۔۔۔ یہ قطار ان حضرات پر مشتمل تھی جو نئے ویزٹ یا ایمپلائمنٹ ویزے پر سعودیہ ظہور پزیر ہوئے تھے۔۔۔
بارہ بجتے ہی تینوں کاونٹرز سے حکام اٹھے اور کہیں غائب ہو گئے۔۔۔ اب اگلا آدھا گھنٹہ ہمیں پھر سے انتظار کرنا تھا کہ کوئی آئے اور ہمیں انتظار کی اس کوفت سے آزاد کرے۔۔۔ آخر کار دو اہلکار ہنستے کھیلتے آئے اور دو کانٹرز پر بیٹھ کر خوش گپیاں کرنے لگے۔۔۔ ہمارا خالی کاونٹر اب بھی ہمارا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔ انتظار اور یہ گھڑیاں اتنی تکلیف دہ تھیں کہ بتانا مشکل ہے۔۔۔
ایک بجے ایک چھوٹے سے قد کا سعودی اہلکار ہمارے سامنے سے منہ میں سگریٹ سلگائے گزرا اور ہم پر نہایت طنزیہ نگاہیں ڈال کر بولا “ویٹ”۔۔۔
ہمیں تھوڑی سے ڈھارس بندھی کہ چلو اب آ ہی گیا ہے بندہ ۔۔۔ لیکن یہ بندہ بھی کہیں دوسرے کمرے میں جا کر گم ہو گیا۔۔۔ ڈیڑھ بجے وہی حضرت کہیں سے نمودار ہوئے اور کاونٹر پر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔ اور اپنے موبائل سے کھیلنے لگے۔۔۔ آخر کار ان کے ذاتی کام ختم ہوئے اور انہیں اپنا آفیشل کام کرنے کا خیال آیا۔۔۔ اور انہوں نے بندے بلانے شروع کر دیے۔۔۔ دو بجے کے قریب میرا نمبر آیا۔۔۔ اس نے بغور میری شکل دیکھی اور پھر ویزے پر چھپی میری تصویر دیکھی۔۔۔ اور ہاتھوں کے اشارے سے فنگر سکینر پر ہاتھ رکھنے کو کہا۔۔۔ اور پاسپورٹ پر “اینٹری” کی سٹیمپ لگا دی۔۔۔
امیگریشن سے باہر نکل کر اپنا سامان سنبھالتے ہوئے میرے منہ سے نکلا۔۔۔۔
“Welcome to Kingdom of Saudi Arabia…
جاری ہے







